اسلام آباد (نیوز ڈیسک)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی آمدن پر انکم ٹیکس عائد کرنے کی مجوزہ پالیسی نے ملک بھر میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانا اور قومی آمدن میں اضافہ کرنا ہے۔
ایف بی آر کی تجویز کے مطابق یہ ٹیکس خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم (نان ریزیڈنٹ) سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر لاگو ہوگا، جو پاکستانی ناظرین سے آمدن حاصل کرتے ہیں۔ پالیسی کے تحت سالانہ کم از کم 500 صارفین تک رسائی رکھنے والے انفلوئنسرز اس کے دائرہ کار میں آئیں گے، جبکہ ہر 1,000 ویوز پر 195 روپے ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ مزید برآں، انفلوئنسرز کو اپنی آمدن میں سے 30 فیصد اخراجات منہا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
ایف بی آر نے اس مجوزہ طریقہ کار پر اسٹیک ہولڈرز سے سات دن کے اندر تجاویز طلب کر لی ہیں، جس کے بعد حتمی پالیسی مرتب کی جائے گی۔
دوسری جانب اس اقدام پر ماہرین اور سینئر صحافیوں میں اختلاف رائے سامنے آیا ہے۔ معروف اینکر منصور علی خان نے اس فیصلے کی اصولی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت کا دارومدار ٹیکس پر ہوتا ہے اور ہر شعبے کو قومی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستانی ناظرین سے آمدن حاصل کرنے والے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے تاکہ مقامی کریئیٹرز کے ساتھ انصاف ہو سکے۔
اس کے برعکس سینئر صحافی اجمل جامی نے اس پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویوز پر ٹیکس عائد کرنا میڈیا انڈسٹری کے لیے نقصان دہ ہوگا اور یہ اقدام سوشل میڈیا کو محدود کرنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس پالیسی کا اصل بوجھ مقامی کانٹینٹ کریئیٹرز پر پڑے گا، جبکہ بیرونِ ملک افراد تک رسائی مشکل رہے گی۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ پالیسی اگرچہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوشش ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ اور ممکنہ اثرات پر مزید غور و خوض کی ضرورت ہے تاکہ ڈیجیٹل انڈسٹری متاثر نہ ہو۔
واضح رہے کہ حتمی فیصلے سے قبل مختلف اسٹیک ہولڈرز کی آراء اور تجاویز کو مدنظر رکھا جائے گا، جس کے بعد اس پالیسی کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستان کا ہر شہری کتنے لاکھ کا مقروض ہے؟