اسلام آباد(نیوز ڈیسک)گیس لوڈ شیڈنگ سے پریشان صارفین کے لیے ایک اہم اور دلچسپ پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اب ایسا چولہا متعارف کرایا گیا ہے جو پانی سے ہائیڈروجن تیار کر کے اسے فوری طور پر ایندھن کے طور پر استعمال کرتا ہے، جس سے کھانا پکانے کے روایتی طریقوں میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹیکنالوجی کمپنی گرین وائز نے نیا کچن سسٹم تیار کیا ہے جس میں جدید الیکٹرولائزر ٹیکنالوجی نصب کی گئی ہے۔ یہ نظام پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کرتا ہے، بعد ازاں پیدا ہونے والی ہائیڈروجن کو فوراً جلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح مہنگی گیس یا دیگر روایتی ایندھن پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس چولہے کی خاص بات یہ ہے کہ کھانا پکانے کے دوران دھواں پیدا نہیں ہوتا بلکہ صرف پانی کے بخارات خارج ہوتے ہیں، جو ماحول کے لیے نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس عمل کے دوران آکسیجن بھی خارج ہوتی ہے، جس سے کچن کی فضا بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس جدید نظام کو چلانے کے لیے تقریباً 100 ملی لیٹر صاف پانی اور ایک یونٹ بجلی درکار ہوتی ہے، جبکہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ایک بار کے استعمال میں کئی گھنٹوں تک مسلسل کام کر سکتا ہے۔ اسے سولر پینلز کے ساتھ بھی منسلک کیا جا سکتا ہے، جس سے بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ والے علاقوں میں اس کی افادیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی صرف گھریلو استعمال تک محدود نہیں بلکہ ہوٹلوں، کمیونٹی کچنز اور کمرشل مقامات کے لیے بھی موزوں قرار دی جا رہی ہے۔ مختلف ماڈلز کی قیمتیں ان کے سائز اور برنرز کی تعداد کے مطابق مقرر کی گئی ہیں۔