موبائل فون ٹیکس میں ممکنہ کمی کی خبروں نے پاکستان بھر کے اسمارٹ فون صارفین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ سے قبل ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ حکومت موبائل فونز پر عائد بعض ٹیکسوں میں کمی پر غور کر رہی ہے، جس سے کئی مہنگے اسمارٹ فونز کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش کیا جائے گا جبکہ حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان بجٹ سے متعلق مشاورت بھی مکمل ہو چکی ہے۔ بجٹ تجاویز میں موبائل فونز پر ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو خاص طور پر 500 ڈالر سے زائد مالیت والے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ اس فیصلے سے آئی فون، سام سنگ کے فلیگ شپ ماڈلز اور دیگر مہنگے درآمدی فونز پاکستانی صارفین کے لیے نسبتاً سستے ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب مقامی موبائل فون تیار کرنے والی کمپنیاں درآمدی فونز پر ٹیکس میں کمی کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر درآمدی فونز سستے ہو گئے تو مقامی سطح پر تیار ہونے والے موبائل فونز کی فروخت متاثر ہو سکتی ہے۔
فی الحال پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے موجودہ نظام کے تحت بیرون ملک سے لائے جانے والے فونز پر بھاری ڈیوٹیز لاگو ہیں، جس کی وجہ سے فلیگ شپ اسمارٹ فونز عام صارف کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موبائل فون ٹیکس میں واقعی کمی کی جاتی ہے تو اس سے نہ صرف صارفین کو ریلیف ملے گا بلکہ اسمارٹ فون مارکیٹ میں بھی نئی سرگرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔