واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)دنیا بھر میں بہت سے ممالک میں مختلف سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر چینی ٹیکنالوجی کمپنی بائٹ ڈانس کی ویڈیو شئیرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کو پابندی کا سامنا ہے۔
امریکی حکومت بھی ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے جبکہ کینیڈا نے فروری میں اس ایپ پر پابندی لگا دی ہے، وجہ یہ بتائی گئی کہ کینیڈین حکومت کو سیکیورٹی کے خدشات ہیں۔
بھارت نے چین کے ساتھ سرحدی جھڑپ کے بعد سال 2020 میں ٹک ٹاک پر مکمل پابندی عائد کردی اور اس ایپ کو مستقل طور پر بند کرنے کی وجہ ملکی سلامتی کو خطرہ بتائی گئی۔
مزیدپڑھیں :سپریم کورٹ کےمزید 5 ججز کے نام مشکوک خط وصول
آسٹریلیا نے بھی سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کررکھی ہے، یہی نہیں بلکہ کئی یورپی ممالک میں اس ایپ پر پابندی لگائی جاچکی ہے۔
نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے سیکیورٹی خدشات کے بعد ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی، صومالیہ نے 2023 میں ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی کیونکہ دہشت گرد گروپ اس ایپلی کیشن کو استعمال کر رہے تھے۔تائیوان نے بھی چینی ٹیکنالوجی کمپنی بائٹ ڈانس کی ویڈیو شئیرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر پابندی عائد کررکھی ہے۔