نئی دہلی (نیوزڈیسک)بھارت میں جہاں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی عروج پر پہنچ رہی ہے وہیں اب کانگریس رہنما بھی مسلم مخالف جماعت بھارتی جنتا پارٹی کو آئینہ دکھا رہے ہیں۔
کانگریس پارٹی کے صدر ملکارجن کھارجی نے نریندر مودی کو مسلمانوں کی آبادی بڑھنے کی تشویش پر دلچسپ تبصرہ اور مشورہ دے دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق لوک سبھا الیکشن مہم میں ایک ریلی سے خطاب میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھارجی کا کہنا تھا کہ ہم اکثریت کی جانب جا رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار منگل سوتر اور مسلمانوں کے حوالے سے بات کر رہی ہے۔
اس سے پہلے مودی حکومت نے کہا تھا کہ ہم اپ سے اپ کی دولت چھین کر انہیں دے دیں گے جن کے زیادہ بچے ہیں۔ اکثر غریبوں کے زیادہ بچے ہوتے ہیں کیا صرف مسلمانوں کے ہوتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی بھارتی ڈرامہ ایکٹریس کی سیاست میں انٹری
انہوں نے مزید کہا کہ غریبوں کے زیادہ بچے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس دولت نہیں ہوتی مگر اپ صرف مسلمانوں اور ان کی دولت سے متعلق ہی کیوں سوال کرتے ہیں اور ان کے بچوں سے متعلق ہی کیوں اپ کو تشویش ہوتی ہے۔
ادھر ریلی سے خطاب میں کانگرس کانگرس کے صدر نے اپنے پانچ بچوں کے حوالے سے بھی تذکرہ کیا ان کا کہنا تھا کہ میرے خود کے پانچ بچے ہیں اور میں خود اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔
بھارتی سیاستدان کی جانب سے مسلمانوں کی آبادی سے متعلق مودی حکومت کی تشویش کو کچھ یوں دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اب اگر مسلمانوں کے زیادہ بچے ہیں تو ہمارے بھی 5 بچے ہیں۔
تاہم مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر اس طرف بھی اشارہ کر دیا کہ ہم بھی آبادی بڑھا سکتے ہیں۔


