نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) بے روزگاری سے ماہانہ 1لاکھ 60ہزار ڈالر(44561184 پاکستانی روپے) کمانے تک کا سفر طے کرنے والے نوجوان نے بالآخر اپنی کامیابی کار از دنیا کو بتادیا۔ نیوز ویب سائٹ’پروپاکستانی‘ کے مطابق گراہم کوچرن نامی یہ نوجوان 2009 ء میں آنے والی اقتصادی بحران کے وقت آڈیو انجینئر کی ملازمت کرتا تھا تاہم بحران آنے پر دیگر کروڑوں لوگوں کی طرح گراہم بھی بے روزگار ہو گیا۔
آج گراہم کوچرن کئی کامیاب آن لائن بزنس کر رہا ہے، جن میں ایک میوزک ایجوکیشن کمپنی اور ایک بزنس کوچنگ برانڈ و دیگر کاروبار شامل ہیں اوروہ اپنے ان وینچرز سے ماہانہ 1لاکھ 60ڈالر سے زائد کما رہا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اسے ہفتے میں صرف پانچ گھنٹے کام کرنا ہوتا ہے۔
مزیدپڑھیں :یاسمین راشد کی شدید گرمی سے جیل میں طبیعت ناساز، ہسپتال منتقل کردیا گیا
گراہم بتاتا ہے کہ ابتدائی طور پر اس نے بہتر موسیقی ریکارڈ کرنے میں درپیش لوگوں کے مسائل حل کرنے شروع کیے۔ یہیں سے اسے کوچنگ کا خیال آیا اور اس نے کلائنٹس اکٹھے کرنے شروع کر دیئے۔ کالز، ای میلز اور ایونٹس میں شرکت کے ذریعے اس نے کلائنٹس بنائے جن کی تعداد اب 3ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
اس دوران وہ فری لانسنگ کرتے ہوئے آڈیو انجینئرنگ کے متعلق آن لائن کنٹینٹ بھی تخلیق کرتا تھا۔ جلد ہی اس نے اپنے کاروبار کو نئی جہت دینے کا فیصلہ کیا اور یہی اس کی کامیابی کا راز ٹھہرا۔
گرام بتاتا ہے کہ ’’میری کامیابی کا راز یہ ہے کہ ایسا مواد تیار کیجیے جو انٹرنیٹ پر سرچ کیا جائے، اپنے کام سے استفادہ کرنے والوں کو مفت تحائف دیجیے، ’Mailchimp‘ جیسے ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے ای میلز کے خودکار طریقے سے جواب دیجیے، آن لائن کورسز، ای بکس یا پیڈ کمیونٹیز کے ذریعے اپنی ڈیجیٹل پراڈکٹس فروخت کیجیے۔ ‘‘ گراہم کا کہنا ہے کہ ان اصولوں پر عمل کرتے ہوئے آپ بہت کم وقت میں اپنے آن لائن بزنس کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔
