ڈھاکہ(ویب ڈیسک) بنگلہ دیش کی عبوری حکومت شیخ حسینہ کے ہر قریبی ساتھی پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور ان کے خلاف شواہد اکٹھا کرنے کا کام کر رہی ہے۔ یہ عبوری حکومت اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ شیخ حسینہ کا کوئی بھی ساتھی ملک سے فرار نہ ہوپائے۔ اسی سلسلے میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے شیخ حسینہ کے صنعت اور سرمایہ کاری کے مشیر کے طور پر کام کرنے والے سلمان ایف رحمان نامی شخص کو کل رات گئے گرفتار کر لیا ہے۔
دراصل بنگلہ دیشی سیکورٹی فورسز کو خبر ملی تھی کہ سلمان ملاح کا روپ اختیار کر کے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ساحلوں پر چوکسی بڑھادی اور وہاں ایک کشتی سے انہیں گرفتار کرلیا۔
سلمان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنی شناخت مکمل طور پر تبدیل کر لی تھی۔ انہوں نے اپنی داڑھی کٹوادی تھی اور ایک ماہی گیر یا ملاح کا بھیس بنا لیا تھا، جس کی آڑ میں وہ بنگلہ دیش سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے ۔
سلمان پر بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ذاتی صنعت اور سرمایہ کاری کے مشیر کے طور پر کام کرتے ہوئے بنگلہ دیش سے اربوں ڈالر کا غبن کرنے کا الزام ہے۔ اس سے پہلے ایک میجر جنرل کو بھی ہوائی جہاز میں سوار ہوتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔
دوسری جانب منگل کو شیخ حسینہ کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ حالانک عامر حمزہ شاتل نامی شخص نے قتل کا یہ مقدمہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اور دیگر چھ افراد کے خلاف درج کرایا ہے۔ تاہم اب شاتل کو دھمکیاں ملنا شروع ہوگئی ہیں۔ اس نے پولیس سے شکایت کی ہے کہ اسے ایک فرانسیسی نمبر سے فون پر جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔
مزیدپڑھیں :ٹھگوں نے انسٹاگرام آئی ڈی بنا کر بالی ووڈ گلوکارہ شریا گھوشال کے پروگرام کے جعلی ٹکٹ فروخت کیے
