واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی فاسٹ فوڈ چین ‘برگر کنگ’ بھارت میں اپنے ہم نام ریسٹورنٹ کے خلاف 13 سال سے جاری قانونی جنگ ہار گیا۔
بھارتی عدالت نے ‘برگر کنگ کارپوریشن’ کی طرف سے دائر مقدمہ خارج کر دیا جس میں ‘برگر کنگ’ کی جانب سے بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے میں واقع ریسٹورنٹ پر اپنے ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ بھارتی ریسٹورنٹ 1992 سے کام کر رہا ہے جبکہ انٹرنیشنل فوڈ چین ‘برگر کنگ’ نے کئی سال بعد بھارت میں کاروبار کا آغاز کیا تھا۔
‘برگر کنگ کارپوریشن’ کی بنیاد 1953 میں ‘انسٹا برگر کنگ’ کے نام سے رکھی گئی تھی اور 1959 میں اسے ‘برگر کنگ’ کا نام دیا گیا تھا۔
نومبر 2014 میں اس انٹرنیشنل فوڈ چین نے بھارتی مارکیٹ میں قدم رکھا اور بھارتی دارالحکومت دہلی میں اپنا پہلا آؤٹ لیٹ کھولا، جس کے ایک سال بعد اس نے پونے میں بھی اپنا آؤٹ لیٹ کھول لیا۔
‘برگر کنگ’ کا مؤقف ہے کہ جب انہیں 2009 میں یہ معلوم ہوا کہ پونے میں ایک پارسی جوڑا (اناہیتا ایرانی اور شاپور ایرانی) اپنے ریسٹورنٹ کے لیے ‘برگر کنگ’ کا نام استعمال کر رہے ہیں، تو انہوں نے اس بھارتی ریسٹورنٹ کو قانونی نوٹس بھیج دیا تھا۔
جواب میں بھارتی ریسٹورنٹ کے مالکان نے کہا کہ انٹرنیشنل فوڈ چین اس نام پر اپنی ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتی کیونکہ اُس وقت بھارت میں ‘برگر کنگ’ نام کا کوئی ریسٹورنٹ کام نہیں کر رہا تھا۔
برگر کنگ کارپوریشن نے 2011 میں ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پونے مین واقع بھارتی ریسٹورنٹ کا نام اس کے ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی ہے۔
بھارتی ریسٹورنٹ کا مؤقف ہے کہ وہ یہ نام 1992 سے استعمال کر رہے ہیں، اس کے ایک دہائی سے زائد عرصے بعد یہ امریکی فوڈ چین نے بھارت میں قدم رکھا تھا، ان کا لوگو بھی مختلف تھا اس لیے کسی کو بھی ایک جیسے نام کیوجہ سے کنفیوژن نہیں ہوئی، عدالت نے بھی اس مؤقف کی تائید کی۔
یہ کیس 13 برس تک چلتا رہا، اس دوران بھارتی ریسٹورنٹ نے اپنا نام ‘برگر کنگ’ سے تبدیل کرکے ‘برگر’ رکھ لیا
انہوں نے انٹرنیشنل فاسٹ فوڈ کمپنی کے خلاف ہرجانے کا جوابی مقدمہ بھی دائر کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے سے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچا ہے۔
تاہم عدالت کی جانب سے اس دعوے کو مسترد کردیا گیا کیونکہ بھارتی ریسٹورنٹ مالکان اپنے دعوے کی تائید کیلئے کاروباری نقصانات کا کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہ کر سکے۔
‘برگر کنگ کارپوریشن’ کے مقدمے کے حوالے سے عدالت نے ریمارکس دیے کہ انٹرنیشل فوڈ چین بھارت میں اپنے ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی کو ثابت کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہے، اس لیے یہ کسی ہرجانے کی حقدار نہیں ہے اور بھارتی ریسٹورنٹ یہ نام استعمال کرنے کے لیے آزاد ہے۔
مزیدپڑھیں :ڈائریکٹروویک اگنی ہوتری سب کے سامنے نیم عریاں حالت میں بٹھاتے تھے، تنوشری دتہ

