Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

امریکا کولمبس نے نہیں ہمارے آباؤ اجداد نے دریافت کیا، بھارتی وزیر کا عجیب دعویٰ

نئی دہلی (ویب‌ڈیسک )بھارت کے زیادہ تر سیاستدان اَن پڑھ ہیں اور اسی وجہ سے اکثر ہی ایسے بیانات دیتے نظر آتے ہیں جو ملک کیلئے جگ ہنسائی کا باعث بنتے ہیں۔ ایسا ہی ایک دعویٰ اب بھارت کے ایک وزیر تعلیم نے کیا جس نے سب کو حیران کردیا ہے۔

بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم اندر سنگھ پرمار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کولمبس نے نہیں بلکہ ایک بھارتی ملاح ”وسولون“ نے دریافت کیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ”واسکو ڈی گاما“ نے محض بھارتی ملاح کے بنائے ہوئے نقشے پر سفر کیا تھا، انہوں نے بھارت تک پہنچنے کا نقشہ نہیں بنایا تھا۔

بھارتی وزیر تعلیم نے یہ بھی کہا کہ ’بھارتی طلبہ کو غلط چیزیں پڑھائی جارہی ہیں اور نصاب سے کولمبس اور واسکو ڈی گاما کا ذکر نکال دیا جائے گا‘۔

اندر سنگھ پرمار نے یہ باتیں برکت اللہ یونیورسٹی میں کونووکیشن کے موقع پر طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’واسکو ڈی گاما نے ذکر کیا تھا کہ ایک چندن نامی تاجر اس سے آگے اسی راستے پر سفر کررہا تھا اور انڈیا چندن نے دریافت کیا تھا واسکو ڈی گاما نے نہیں، طلبہ کو غلط تاریخ پڑھائی جارہی ہے‘۔

وزیر تعلیم نے پروفیسرز، گریجویٹس اور پوسٹ گریجویٹس طلبہ پر مشتمل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہمیں بھارت میں طلبہ کو یہ جھوٹ نہیں پڑھانا چاہیے کہ کولمبس نے امریکا دریافت کیا، بھارت میں طلبہ کو یہ جاننے کا کوئی فائدہ نہیں‘۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اگر انہیں یہ پڑھانا ہی ہے تو یہ بتانا چاہیے کہ جب کولمبس امریکا پہنچا تو اس کے لوگوں کس طرح مقامی لوگوں پر تشدد کیا اور انہیں تباہ کرنے کی کوشش کی کیوں کہ وہ فطرت کی پوجا کرتے تھے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کس طرح مقامی افراد کو مارا گیا اور ان کے خیالات کو تبدیل کیا گیا، لیکن یہ سب بھارت میں طلبہ کو نہیں پڑھایا جاتا اس کے بجائے انہیں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ کولمبس نے امریکا دریافت کیا تھا‘۔

وزیر تعلیم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سب سے پہلے ایک بھارتی ملاح امریکا کے ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہوا تھا اور بھارتی تاجر گیارہویں صدی عیسوی سے امریکیوں کے ساتھ تجارت کررہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی کو لکھنا تھا تو یہ لکھنا چاہیے تھا کہ بھارت کا عظیم ملاح وسولون آٹھویں صدی میں امریکا پہنچا اور سان ڈیاگو میں کئی مندر بھی تعمیر کیے، یہ وہ حقائق ہیں جو ان کے عجائب گھوں اور لائبریروں میں ملتے ہیں‘۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ ’اس بات کو تسلیم کیا جانا چاہیے کہ امریکا ہمارے آباؤ اجداد نے دریافت کیا تھا کولمبس نے نہیں‘۔

تقریب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ واسکو ڈی گاما نے بھارت دریافت نہیں کیا تھا، ہم اسے (کتابوں سے) ہٹائیں گے، بھارت واسکو ڈی گاما کے یہاں پہنچنے سے بہت پہلے سے قائم تھا اس لیے بھارت کو دریافت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘۔

کولمبس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کولمبس امریکا 1492 میں پہنچا لیکن ہمارے ملک کے ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ ہم نے بہت پہلے آٹھویں صدی عیسوی میں ہی امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرلیے تھے، جس کی تصدیق ان کے مندروں اور میوزیمز سے ہوتی ہے۔
مزیدپڑھیں :ہم ایٹمی طاقت ہیں، روز روز قرض کی درخواستوں سے اہمیت کم ہوتی ہے، وزیر اعظم

یہ بھی پڑھیں