Search
Close this search box.
جمعه ,03 جولائی ,2026ء

بنگلادیش :بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی پہلی بار برسی منائی گئی؛ زبردست خراجِ تحسین پیش

ڈھاکہ (نیوزڈیسک)بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ میں پہلی بار بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی برسی منعقد کی گئی ، تقریب میں قائداعظم کے فرمودات سے مزین اتحاد، تنظیم اور ایمان کا بینرآویزاں کیا گیا ، عالمی خبررساں ادارے کے مطابق بانی پاکستان کی برسی نواب سلیم اللہ اکیڈمی کے زیر اہتمام توفضل حسین مانک میاں ہال میں پُروقار انداز میں منائی گئی۔

پاکستانی ڈپٹی ہائی کمشنر کامران دھنگل تقریب کے مہمان خصوصی تھے ،تقریب میں اہل علم، صحافی، مصنفین، مورخ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مقررین نےاپنے خطاب میں قائد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر قائد اعظم نہ ہوتے تو پاکستان نہ بنتا اور ہم آج ہم بھارتی جبر میں زندگیاں گزارنے پر مجبورہوتے ،جیسے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

بھارتی فوج نے ہمارے گلے پر ہتھیار رکھے ہوتے اور پاکستان نہ ہوتا تو بنگلا دیش کا وجود بھی نہ ہوتا۔نذر اسلام نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح قوم کے باپ ہیں لیکن ہم اسے تسلیم نہیں کرتے۔ گو ہم نے آزادی حاصل کر لی مگراپنی صفوں میں اتحاد پیدا نہ کرسکے۔ اس سے قطع نظر کہ یہ سب کیسے ہواَ؟ اب ہمیں پاکستان کیساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرنا ہونگے۔

ہمیں اپنے بھائی چارے کو برقرار رکھنا ہوگا امید ہے کہ یہاں ہر سال قائد اعظم کی یوم پیدائش اور یوم وفات منائی جاتی رہیں گی۔ایک اور مقرر محمد سخاوت نے قائد اعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1757 کے بعد برصغیر پاک و ہند میں پیدا ہونے والی سیاسی نااہلی اور لڑائی جھگڑے کا خاتمہ محمد علی جناح نے اپنی متدبرانہ سوچ سے کیا۔

ایک اور مقرر شمس العین کا کہناتھا کہ ہم علامہ اقبال ہال یا جناح ایونیو کا نام کیوں تبدیل کریں؟ یہ تبدیلیاں اس لیے کی جائیں کہ ایسا بھارت چاہتا تھا، لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔ بنگہ دیش کو چین اور پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کو فروغ دینا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر محمد علی جناح نے 1947 میں موجودہ بنگلا دیش کو مغربی پاکستان نہ بنایا ہوتا تو ہمارا ویسا ہی حال ہوتا جو اس وقت بھارت میں ریاست مغربی بنگال کا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر مستفیض الرحمن نے کلیدی مقالہ پیش کیا جس میں قائد اعظم کی زندگی سے لے کر ان کی پیدائش سے لے کر وفات تک مختلف واقعات کا خاکہ پیش کیا گیا تھا۔

جعفرالحق جعفر نے قائد اعظم پر ایک اردو نظم سنائی جب کہ بنگلا دیش میں زیر تعلیم 2 پاکستانی طلبا محمد طاہر اور کامران عباس نے اردو میں گانے پیش کیے۔نواب سلیم اللہ اکادمی کے صدر محمد عبدالجبار کی صدارت میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں ناگورک پریشد کے کنوینر محمد شمس الدین اور صحافی مصطفی کمال بھی شریک تھے۔
حکومت کا پارلیمنٹ لاجز کو پی ٹی آئی ارکان کیلئے سب جیل بنانے کا فیصلہ

یہ بھی پڑھیں