آسٹریلیا(ویب ڈیسک)آسٹریلین وفاقی پارلیمنٹ میں غزہ میں جاری بربریت سے بچ جانے والے مردوں، عورتوں اور بچوں کے لئے پناہ گزینوں کی ویزا پالیسی پر بحث کی جارہی ہے۔
لیبر پارٹی کی حکومت نے7000 پناہ کے متلاشیوں کی درخواستیں موصول کیں جن میں صرف 2,922 درخواستیں منظور کی گئیں اور وزیٹنگ یا پناہ گزین ویزوں کا اجراء کیا گیا۔
ان میں وہ پناہ گزین بھی شامل ہیں جوغزہ سے لبنان، مصر وغیرہ کی طرف نکل گئے تھے اور پھر وہاں سے پناہ گزین یا وزٹ ویزوں کے لئے درخواستیں آسٹریلوی امیگریشن میں داخل کیں۔
یشتر کے عزیز و اقارب پہلے ہی سے آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہیں۔
کیا پناہ گزینوں کے ویزے کے لئے درکار سارے معیار پر عملدرآمد کیا تھا؟ جبکہ آسٹریلوی امیگریشن کی جانب سے پہلے ہی ویزے کے ہر زمرے کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو ہر درخواست گزار کے لئے چیک کی جاتی ہے۔
بہرحال پیٹر ڈٹن کے عمل سے آسٹریلیا میں لوگوں کا عام خیال ہے کہ وہ باہر سے آنے والوں کو پسند نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ امیگریشن ویزوں کےلیے اتنی مشکل شرائط رکھی جائیں کہ کوئی ویزا حاصل ہی نہ کر سکے۔
آسٹریلیا میں دنیا سے مختلف ویزوں پر آنے والوں کی تعداد دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جن میں اکثریت پناہ گزینوں کی ہے جو اپنے آبائی ممالک میں مختلف مسائل کا شکار ہوکر ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
آسٹریلیا کا غیرملکی طلبہ کی تعداد میں کمی کا اعلان
آسٹریلیا میں عام اور اعلیٰ تعلیمی اداروں ، مختلف صوبوں، شہروں اور قصبوں میں ہسپتالوں اور حکومت کے مختلف اداروں کا قیام تھا۔ لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں کہ آسٹریلیا ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں دوسرے ممالک سے آئے ہوئے افراد کی تعداد غیرمعمولی ہے۔
پناہ گزینوں کی آسٹریلوی کونسل کے مطابق، دوسری جنگ عظیم اور اس کے بعد سے آسٹریلیا میں اب تک دس لاکھ غیرملکیوں کو آسٹریلیا میں آباد کیا گیا ہے۔ امیگریشن ڈپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق دوسری جنگ عظیم سے لے کر2025 ء تک آسٹریلیا میں دس لاکھ افراد وہ ہوں گے جو مختلف دور میں آسٹریلیا میں بحیثیت پناہ گزین یا ہنرمند آئے ہیں۔
ضرورت اسِ بات کی ہے کہ آسٹریلوی پالیسی میکرز اور حکمرانوں کو دوربینی سے آسٹریلیا کے مستقبل اور اس کی، دنیا میں مضبوط حیثیت کو دیکھنا ہوگا۔
دولت مشترکہ، برطانیہ اور امریکی عالمی پالیسیوں پر آنکھیں بند کرکے عمل کرنے کو خیرباد کہنا ہوگا اور آسٹریلیا کے اپنے مفاد اور منفرد اور آزاد حیثیت پر مبنی پالیسی بنانی ہوگی۔
لہٰذا آسٹریلیا کے لئے منفرد موقع موجود ہے کہ وہ امریکا اور یورپ کی عالمی سیاست کو خیرباد کہے اور اپنی الگ اور آزاد حیثیت و شناخت قائم کرے۔
مزید پڑھیں:پرتگال حکومت کی نئی امیگریشن پالیسی کااعلان ،پرتگیش زبان آتی ہے تو آج ہی اپلائی کریں
