سپین(نیوزڈیسک) سپین میں طوفا نی بارشیں اور سیلابی صورتحال سے متاثر شہری اپنے حکمرانوں پر برہم، متاثرین سیلاب نے غصے میں آکر شاہی خاندان اور وزیر اعظم پیڈرو سانچیز پر کیچڑ پھینک دیا۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق والنسیا کے شہریوں نے بادشاہ فیلیپ، ملکہ لیٹیزیا اور وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کے دورے کے دوران شدید احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کیچڑ اچھال دیا ۔
شاہی خاندان اور وزیر اعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقے کا جائزہ اور متاثرین سے ملاقات کیلئے علاقے کا دورہ کیا تاہم دوران احتجاج شہریوں نے شاہی خاندان پر کیچڑ اٹھا کر حملہ کردیا۔ان کی آمد کے موقع پر متاثرین نے ’قاتل، قاتل‘ کے نعرے بھی بلندکردیئے۔
متاثرین کا کہنا تھا کہ سیلابی خطرات کے حوالے سے سرکاری حکام نے تاخیر سے آگاہ کیا اور جب آفت آن پڑی تو ہنگامی اقدامات اٹھانے میں دیر کی۔ایک نوجوان نے بادچاہ فیلیپ کو بتایا کہ حکام کو سیلاب کا معلوم تھا لیکن کسی نے کچھ نہیں کیا۔ بادشاہ فیلیپ احتجاج کے باوجود متاثرین سے بات چیت پر اصرار کرتے ہوئے نظر آئے جبکہ وزیر اعظم پیچھے ہٹ گئے ۔
واضح رہے کہ اسپین ایک پارلیمانی بادشاہت ہے جہاں بادشاہ ریاست کا سربراہ ہوتا ہے۔دورے کے دوران ایک شہری بادشاہ فیلیپ کے کندھے پر سر رکھ کر روتا ہوا نظر آیا جبکہ ملکہ لیٹیزیا کی آنکھیں بھی نم دیکھی گئیں جو کچھ متاثرین کو گلے لگا رہی تھیں۔ملکہ لیٹیزیا کے بالوں اور چہرے پر کیچڑ کے نشانات نمایاں تھے جبکہ ان کے ایک محافظ کے چہرے پر ممکنہ توڑ پر پتھر لگنے سے زخم واضھ دکھائی دیا۔
مقبوضہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی کا پہلا اجلاس، آج ا ہم قرارداد پیش کی جائیگی



