جنوبی کوریا (نیوز ڈیسک)جنوبی کوریا میں مسافر طیارہ بوئنگ 800-737 رن وے سے پھسلنے کے بعد موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی دیوار سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا، حادثے میں 179 اموات کا خدشہ ہے جبکہ 2 خواتین کو زندہ بچالیا گیا۔
جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں زندہ بچنے والی 2 خواتین کے علاوہ جہاز میں سوار تمام افراد کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ مرچکے ہیں ۔جنوبی کوریا کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے کے بعد اس وقت پیش آیا جب جیجو ایئر کی پرواز 7 سی 2216 تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے عملے کے 6 ارکان سمیت 181 افراد کو لے کر ملک کے جنوب میں واقع ہوائی اڈے پر لینڈنگ کر رہی تھی۔
موان فائر بریگیڈ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دو افراد کو بچالیا گیا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، خبر رساں ادارے یونہاپ کا کہنا ہے کہ 3 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔مقامی میڈیا کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو انجنوں والا طیارہ رن وے سے پھسل کر ایئرپورٹ کی دیوار سے ٹکرانے کے بعد دھماکے سے آگ کے گولے میں تبدیل ہوگیا، دیگر تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دھوئیں اور آگ نے طیارے کے کچھ حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔وزارت ٹرانسپورٹیشن کے مطابق مسافروں میں تھائی لینڈ کے دو شہری بھی شامل ہیں جبکہ باقی کا تعلق جنوبی کوریا سے ہے۔
جیجو ایئر لائن کے ترجمان نے بتایا کہ طیارہ بوئنگ 737-800 جیٹ تھا، حادثے کی تفصیلات بشمول اموات کی تعداد اور حادثے کی وجوہات معلوم کی جارہی ہیں، بوئنگ اور امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے فوری طور پر حادثے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔خبر رساں ادارے یونہاپ کے مطابق موان ایئرپورٹ پر تمام مقامی اور بین الاقوامی پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔جنوبی کوریا کے قائم مقام صدر چوئی سانگ موک، جنہیں جاری سیاسی بحران کے دوران سابق قائم مقام صدر کے مواخذے کے بعد جمعے کو ملک کا عبوری صدر نامزد کیا گیا تھا، نے ہر ممکن امدادی کارروائیوں کا حکم دیا ہے، ان کے چیف آف اسٹاف نے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ہوائی اڈے کے ایک عہدیدار نے حادثے کے فوری بعد خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ حکام جہاز کے عقبی حصے میں موجود لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے 25 دسمبر کو بھی ایک جان لیوا فضائی حادثہ پیش آیا تھام جب آذربائیجان ایئرلائنز کا مسافر طیارہ 67 افراد سمیت قازقستان میں گر کر تباہ ہوگیا، جہاز میں سوار 32 مسافروں کو بچالیا گیا تھا جن میں سے کئی افراد کی حالت تشویشناک تھی۔آذربائیجان ایئرلائنز کی ’ایکس‘ پوسٹ کے مطابق ایمبریئر 190 ساخت کا طیارہ آذربائیجان ایئرلائنز کی پرواز ’J2-8243‘ کو لے کر آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سے چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی جارہا تھا، تاہم قازقستان کے شہر آقتاؤ سے تقریباً 3 کلومیٹر کے فاصلے پر ہنگامی لینڈنگ کرنے پر مجبور ہوا۔فضائی حادثے کے اگلے روز آذربائیجان کے اعلیٰ حکام نے روس کے میزائل دفاعی نظام کو قازقستان میں اپنے مسافر طیارے کی تباہی کی وجہ قرار تھا۔ترک خبر رساں ادارے ’انادولو‘ کے مطابق آذربائیجان کے اعلیٰ حکام نے جمعرات کو ان خبروں کی تصدیق کی تھی کہ آذربائیجان ایئرلائنز کا مسافر طیارہ روسی میزائل دفاعی نظام کی وجہ سے تباہ ہوا۔
آذربائیجان کے ذرائع ابلاغ نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھیکہ واقعے کی تحقیقات کے ابتدائی نتائج سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ روس کے پینٹسر میزائل سسٹم نے گروزنی شہر کے قریب پہنچتے ہی طیارے کو نشانہ بنایا۔بعدازاں گزشتہ روز روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مسافر طیارے کے حادثے پر آذربائیجان کے صدر سے معافی مانگ لی تھی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق حادثے کے بارے میں آذربائیجان کی تحقیقات کے ابتدائی نتائج سے باخبر 4 ذرائع نے بتایا کہ روسی فضائیہ نے غلطی سے اسے نشانہ بنا کر گرایا۔کریملین نے جاری بیان میں بتایا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن نے روسی فضا میں ہونے والے اس افسوسناک واقعے پر معذرت کی ہے اور ایک بار پھر حادثے میں مرنے والے افراد کے اہل خانہ سے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہیں۔کریملین کا کہنا تھا کہ اُس وقت گروزنی، موزڈوک اور ولادیکاوکاز پر یوکرین کے ڈرونز حملے کر رہے تھے اور روسی دفاعی نظام نے ان حملوں کو ناکام بنادیا تھا۔کریملین نے کہا کہ یہ فون کال صدر ولادیمیر پیوٹن کی درخواست پر کی گئی تھی۔آذربائیجان کے صدارتی دفتر کے مطابق صدر الہام علی یوف کو بتایا گیا تھا کہ طیارے کو روسی فضائی حدود میں بیرونی اور تکنیکی طور پر نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ کنٹرول کھو بیٹھا اور قازقستان کے شہر آقتاؤ کی طرف مڑ گیا۔
یاسرہ رضوی نے کم عمر لڑکے سے شادی کرنے کے فوائد گنوا دیے