پہلگام میں ہونے والے مبینہ فالس فلیگ حملے کی ابتدائی ایف آئی آر نے بھارتی حکومت کے بیانیے کو مشکوک بنا دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پہلگام پولیس اسٹیشن جائے وقوعہ سے 6 کلومیٹر دور واقع ہے، مگر ایف آئی آر کے مطابق حملہ 13:50 سے 14:20 تک جاری رہا، جبکہ حیران کن طور پر صرف 10 منٹ بعد، 14:30 پر ایف آئی آر درج کر لی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اتنی جلدی ایف آئی آر درج ہونا پہلے سے تیار شدہ منصوبے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایف آئی آر میں نہ صرف “نامعلوم سرحد پار دہشت گردوں” کو فوری طور پر نامزد کر دیا گیا بلکہ “بیرونی آقاؤں کی ایماء پر” جیسے الفاظ بھی شامل کر لیے گئے، جس سے مودی سرکار کی جلد بازی اور ممکنہ فریب کاری کا پتہ چلتا ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی، مگر بھارتی حکومت اور میڈیا اسے مسلسل ٹارگیٹڈ کلنگ قرار دیتے رہے، جو بیانیے میں واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر کے مندرجات سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ یہ واقعہ محض ایک فالس فلیگ آپریشن تھا، جس کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ مودی حکومت کی یہ حکمتِ عملی اب عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بن رہی ہے، اور واقعے کا ڈرامائی انداز بے نقاب ہو چکا ہے۔
