Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

بابا وانگا کی وارننگ سچ ہوئی ثابت! سبھی نسلوں کو خطرے میں ڈال رہا یہ خاص ڈیوائس

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بابا وونگا کو ان کی درست پیشین گوئیوں کے لیے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے ۔ انہوں نے ایک ایسے وقت کا تصور کیا تھا، جب لوگ کمپیکٹ الیکٹرانک گیجٹس پر اتنے زیادہ منحصر ہو جائیں گے کہ نسلیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ یہ گیجٹس آج اسمارٹ فونز کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ بابا وونگا نے اپنی پیشین گوئی میں کہا تھا کہ یہ گیجٹ انسانوں کے رویے اور نفسیاتی صحت کو کافی حد تک متاثر کرے گا۔ بابا وونگا نے پیش گوئی کی تھی کہ زندگی کو آسان بنانے کے لیے بنائی گئی وہی ٹیکنالوجی بالآخر انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

بابا ونگا نے جو کہا تھا، وہ بالکل سچ ثابت ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ہندوستان کے نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر) نے ایک تحقیق کی ہے، جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریباً 24 فیصد بچے سونے سے پہلے اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ رات کے وقت موبائل ڈیوائسز پر بڑھتا انحصار ان کی نیند کے قدرتی انداز میں خلل ڈال رہا ہے، ان میں ارتکاز کی کمی ہے اور ایسے بچوں کو تعلیمی چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچوں میں اسمارٹ فون کے زیادہ استعمال کی وجہ سے بے چینی، ڈپریشن اور ارتکاز سے متعلق مسائل بڑھ رہے ہیں۔ اسکرین کا طویل وقت اکثر جسمانی ورزش اور آمنے سامنے بات چیت کی جگہ لے لیتا ہے، جو نوجوانوں میں صحت مند جذباتی، سماجی اور جسمانی نشوونما کے لئے ضروری ہیں۔

اسمارٹ فون کو زیادہ دیر تک استعمال کرنے سے کنسٹریشن خراب ہوسکتا ہے۔ اس سے یادداشت کمزور ہو جاتی ہے اور ایسے لوگوں کی مسائل حل کرنے کی صلاحیتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ اسکرین کا ضرورت سے زیادہ استعمال علمی افعال کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔
مزیدپڑھیں:عمران خان نے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی تبدیلی کا فیصلہ واپس لے لیا

یہ بھی پڑھیں