تہران (نیوز ڈیسک) ایران کی تہران یونیورسٹی کے پروفیسر فؤاد ایزدی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں نے ایران میں “جھنڈے کے گرد اتحاد” کی فضا پیدا کر دی ہے اور اب جنگ ایک ناگزیر حقیقت بن چکی ہے۔
قطری خبررساںادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایزدی کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کی رائے واضح ہے کہ “اب ایران کو جواب دینا ہے، اور سخت جواب دینا ہے۔” ان کے مطابق “ایران جنگ نہیں چاہتا تھا، لیکن دوسرے فریق نے ایران کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا۔ اب جواب ایسا ہونا چاہیے کہ آئندہ ایسی حرکت دوبارہ نہ کی جا سکے۔”
انہوں نے کہا “یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے، لیکن ہمیں ایک اور جنگ ہوتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔”
ایزدی کے مطابق ایران میں ان حملوں کو “امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی” سمجھا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے خطے میں موجود امریکی اڈوں کو بھی ممکنہ فوجی ہدف تصور کیا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا “ایران کبھی بھی امریکا سے فوجی تصادم نہیں چاہتا تھا، لیکن اگر ایران امریکی اڈوں کو نشانہ بناتا ہے، تو اس کے پاس اس کے لیے مکمل طور پر جائز دلائل موجود ہیں۔”
مزیدپڑھیں:حکومت بلوچستان کا کوئٹہ شہر کے اندر پیپلز ٹرین چلانے کا فیصلہ


