ویتنام(نیوز ڈیسک)ویتنام نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے بڑا اور اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومتی اعلان کے مطابق 2030 تک دارالحکومت ہنوئی میں پیٹرول پر چلنے والی موٹر بائیکس پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔
اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ماحولیاتی اداروں نے خبردار کیا کہ ہنوئی کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) مسلسل خطرناک حد عبور کر رہا ہے۔ دارالحکومت میں تقریباً 70 لاکھ بائیکس رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے اکثریت پیٹرول پر چلتی ہے اور یہ فضائی آلودگی میں سب سے بڑا حصہ ڈال رہی ہیں۔
حکام کے مطابق، شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی طرف منتقل کرنے کے لیے سبسڈی، رعایتی قرضے اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی اپگریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ ذاتی گاڑیوں پر انحصار کم کریں۔
عوامی ردعمل
فیصلے پر شہریوں کا ردعمل ملا جلا ہے۔ ماحولیاتی کارکنوں نے اسے سراہا ہے جبکہ کچھ شہریوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ الیکٹرک بائیکس مہنگی ہیں اور چارجنگ سہولتیں ناکافی ہیں۔
ماہرین کی رائے
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سنجیدگی سے انفراسٹرکچر بہتر کرے اور عوام کو سستی اور آسان ٹرانسپورٹ مہیا کرے تو یہ فیصلہ نہ صرف ہنوئی بلکہ پورے ملک کے ماحول کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
