Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

ایک شخص کے پچاس بیٹے ووٹر؛ ووٹرز لسٹ وائرل ہو گئی

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارت میں ووٹرز لسٹوں میں ہوش ربا حقائق سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، پہلے اپوزیشن لیڈر نے ایک کمرے کے گھر میں اسی ووٹر مقیم ہونے کے جھوٹ کا بھانڈا پھوڑا تھا، اب ایک اور ووٹرز لسٹ وائرل ہو رہی ہے جس میں 50 ووٹروں کا ایک ہی باپ ہے لیکن وہ باپ کنوارا ہ سنیاسی ہے۔
یبھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت تلے کئی برسوں سے جکڑی ہوئی ریاست اتر پردیش میں کانگریس نے سوشل پلیٹ فارم پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے وارنسی کے علاقہ کشمیری گنج کے ، وارڈ نمبر 51، بھیلو پور سے انتخابی فہرست کا سکرین شاٹ شیئر کیا، جس میں 50 سے زیادہ افراد کی فہرست دی گئی ہے جس میں “رام کمل داس” ان کے والد کے طور پر درج ہیں۔ اس فہرست میں 28 سال سے 72 سال کی عمر کے افراد شامل ہیں۔ اس انکشاف نے ان تمام افراد کے فیک ووٹر ہونے کے دعووں کو جنم دیا — یہ بات بظاہر ناقابلِ یقین تھی کہ ایک شخص منطقی طور پر 50 بچوں کا باپ بن سکتا ہے اور وہ تمام بچے اب ووٹر بھی ہیں۔
تحقیقات سے کیا انکشاف ہوا
نیوز آؤٹ لیٹ انڈیا ٹوڈے نے اس ووٹر لسٹ میں درج ایڈریسز پر اپنے رپورٹرز کو بھیج کرتحقیقات کی تو یہ انکشاف ہوا کہ: زیر بحث پتہ کوئی نجی رہائش گاہ نہیں ہے — یہ رام جانکی مٹھ مندر/آشرم ہے، جسے سوامی رام کمل داس (رام کمل داس/ویدانتی) نے قائم کیا تھا۔
انڈیا ٹوڈے نے رپورٹ کیا کہ ووٹر لسٹ میں شامل افراد اس مندر سے منسلک آشرم میں شاگرد یا خانقاہی طالب علم ہیں، جو – دیرینہ گرو-شیشیا (استاد-شاگرد) کی روایت کے مطابق، ووٹر آئی ڈی جیسے سرکاری دستاویزات میں اپنے اصل والد کے بجائے اپنے گرو کا نام استعمال کرترہے ہیں۔
انڈیا ٹوڈے
اس عمل کو قانونی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، ہندوستانی قانون سنیاسیوں کو 2016 سے اپنے گرو کا نام بطور پدرانہ شناخت استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

سرکاری وضاحت اور وسیع تر حقائق کی جانچ
مزید تحقیق سے پتہ چلا کہ ووٹر رجسٹریشن کا یہ نمونہ 2023 کے میونسپل انتخابات کے دوران سامنے آیا، جہاں اس طرح کے تقریباً 48 اندراجات ریکارڈ کیے گئے۔ اس نے تصدیق کی کہ یہ دھوکہ دہی پر مبنی نہیں ہے- اس کی جڑیں مذہبی روایت میں ہیں۔
مزیدپڑھیں:ربیع الاول کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو نے پیش گوئی کر دی

یہ بھی پڑھیں