نئی دہلی(انٹرنیشنل ڈیسک)موت کے منہ میں جا کر واپس آنا سب نے سن رکھا ہوگا لیکن ایک مردہ شخص آخری رسومات کی ادائیگی کے دوران اچانک زندہ ہوگیا۔
یہ حیرت انگیز واقعہ بھارت میں پیش آیا جہاں ریاست مہاراشٹر کے ناسک ضلع میں ڈاکٹروں کی جانب سے مردہ قرار دیے گئے نوجوان شخص آخری رسومات کے دوران اچانک زندہ ہو گیا۔
ریاست مہاراشٹر میں ترمبکیشور تعلقہ کے اڈگاؤں علاقہ کا رہنے والا 19 سالہ نوجوان کچھ دن پہلے ایک سڑک حادثہ میں شدید زخمی ہوگیا تھا، اسے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اہل خانہ کو بتایا کہ اس کا برین ڈیڈ ہے۔
نوجوان کے گھر والے اور رشتہ داروں نے اگلے دن آخری رسومات کی تیاریاں شروع کر دیں، لیکن جب اسے شمشان گھاٹ لے جایا جا رہا تھا تو ارتھی میں اچانک حرکت اور بھاؤ کو کھانسی ہوئی۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ دیکھ کر گھر والے اور آس پاس کے لوگ حیران رہ گئے، کوئی یقین نہیں کر سکتا تھا کہ وہی نوجوان، جسے برین ڈیڈ قرار دیا گیا تھا، اب زندہ ہے، اہل خانہ نے فوری طور پر بھاؤ نوجوان کو ناسک کے ضلع اسپتال پہنچایا۔
جہاں دوبارہ سے اس کا علاج شروع کیا گیا، ضلع اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بھاؤ کی حالت تشویشناک ہے، لیکن فی الحال ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے، ڈاکٹرز ان کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور ہر ممکن طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
نجی اسپتال کی انتظامیہ نے واضح کیا کہ بھاؤ کو کبھی بھی باضابطہ طور پر مردہ قرار نہیں دیا گیا تھا، اسپتال کے مطابق لواحقین کو طبی اصطلاحات کی مکمل سمجھ نہیں تھی جس کی وجہ سے انہیں لگا کہ ڈاکٹر نے بھاؤ کو مردہ قرار دے دیا ہے۔
اسپتال انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر ہمیشہ درست معلومات دینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن طبی زبان بعض اوقات عام لوگوں کے لیے الجھن کا باعث بن سکتی ہے۔
مزیدپڑھیں:ڈاکٹر نبیحہ کی بات پکی ، دوسری شادی کا اعلان


