تل ابیب(نیوز ڈیسک)اسرائیلی ریاست نے غزہ کے جنگ زدہ اور بے گھر کر دیے گئے لاکھوں فلسطینیوں کو الٹی میٹم کے انداز سے کہا ہے کہ فلسطینی عوام فوری طور پر غزہ سے نکل جائیں کیونکہ حماس نے اسرائیلی قیدیوں کو رہا نہ کیا تو غزہ پر خوفناک بمباری اور زمینی جنگی کارروائیاں کرنے کی تیاری ہے۔ ان جنگی کارروائیوں سے بچنے کی صرف یہ صورت ہوگی کہ حماس اسرائیلی قیدی رہا کر دے اور خود ہتھیار ڈال دے۔
اسرائیلی ریاست نے پیر کے روز غزہ کے رہنے والوں کو غزہ سے نکل جانے کا حتمی حکم دیا ہے کہ یہ زمین خالی کردیں۔ اس آخری دھمکی میں حماس کو بھی 48 گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے کہ ہتھیار ڈال دو اور اسرائیلی قیدی چھوڑ دو ورنہ جنگی حملوں کا نشانہ بننے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ تمہیں تباہ کر دیا جائے گا اور مٹا دیا جائے گا۔
یاد رہے اسرائیلی قیدی سات اکتوبر 2023 سے غزہ میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے قید کر رکھے ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر کو دو مختصر اور محدود جنگ بندیوں میں حماس رہا کر چکی ہے مگر اب بھی کئی اسرائیلی غزہ میں قید ہیں۔
اسرائیلی ریاست نے ان قیدیوں کی رہائی کے لیے اب تک تقریبا دو سال کی جنگ لڑ لی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیلی ریاست ان قیدیوں کو چھڑوانے میں ناکام ہے۔ اس جنگ کے شروع میں اسرائیلی ریاست نے اپنے تین جنگی اہداف بتائے تھے۔ جن میں سے ایک اپنے قیدیوں کی رہائی، دوسرا حماس کا خاتمہ اور تیسرا غزہ پر حماس کی حکمرانی کا مکمل خاتمہ۔ اتفاق سے یہ تینوں اہداف پورے نہیں ہو سکے اور اب جنگ اپنے دو سال مکمل کرنے کے قریب ہے۔
وزیر دفاع کاٹز کی یہ پوسٹ یروشلم میں ایک بس پر حملے کے ماحول میں سامنے آئی جس میں چھ مارے جانے والے لوگوں میں ایک ہسپانوی شہری بھی شامل ہے۔ حماس نے بس پر حملہ کرنے والوں کی تعریف کی ہے۔
دریں اثناء اسرائیلی ریاست کی فوج نے ایک 12 منزلہ بلڈنگ پر غزہ کے وسطی علاقے میں بم گرائے۔ اس بلڈنگ میں درجنوں بے گھر لوگوں کو پناہ دی گئی تھی۔
فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے جاسوسی آلات نصب کر رکھے ہیں۔ نیز بلڈنگ کے نزدیک بارودی دھماکے کرنے والی ڈیوائسز لگا رکھی ہیں اور یہ کام وہ اس ساری جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کو نشانہ بنانے کے لیے کرتے رہے ہیں۔
اسرائیل کے ایک ذمہ دار نے کہا کہ امریکی تجویز کے مطابق حماس بقیہ 48 قیدیوں کو رہا کرے گا خواہ وہ زندہ ہیں یا ہلاک ہو چکے ہیں اور ان سب کی رہائی جنگ بندی کے پہلے روز ہی ہو جائے گی۔ جس کے بعد جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے مذاکرات ہوں گے۔
حماس کی طرف سے طویل عرصے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ مذاکرات کی مکمل کامیابی تک کچھ قیدیوں کو اپنے پاس رکھے گا۔ یہ بیان حماس نے ایک بار پھر دہرایا ہے۔ اگرچہ اس نے وعدہ کیا ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے کے اعلان کے ساتھ ہی سب کو رہا کر دیا جائے گا۔ تاہم جنگی خاتمے کا مطلب اسرائیلی فوج کا انخلاء بھی ہوگا۔
حماس کے رہنما باسم نعیم نے پیر کے روز کہا امریکی جنگ بندی کی تجویز ابتدائی آئیڈیا ہے۔ اس رہنما کا یہ بیان ٹیلی گرام چینل پر سامنے آیا ہے۔ تاہم یہ اس میں واضح نہیں کیا گیا کہ یہ بیان حماس کا سرکاری مؤقف ہے۔
خیال رہے اسرائیلی ریاست کی فوج نے پچھلے ماہ کے وسط میں غزہ میں ایک نئی توسیعی جنگی یلغار کا آغاز کیا۔ تاکہ ان علاقوں سے غزہ کے رہنے والوں کو انخلاء پر مجبور کیا جائے۔ اس دوران اسرائیلی فوج کو سخت مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
اسرائیلی ریاست کی فوج یہ اعتراف کرتی ہے کہ اس کے 4 فوجی شمالی غزہ میں پیر کے روز بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ کم از کم 25 فلسطینیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
پیر کے روز ہی اسامہ بلوشہ نامی صحافی کو بھی اسرائیلی فوج نے قتل کیا ہے۔ جبکہ مزید 15 فلسطینی اسرائیلی فوج کی دیگر کارروائیوں میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ پیر کے روز مجموعی طور پر 40 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ جبکہ اب تک جاں بحق ہونے والے صحافیوں کی غزہ میں تعداد 250 ہو چکی ہے۔
اسرائیلی ریاست نے بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والے صحافیوں کی غزہ میں آمد پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اسرائیلی ریاست نہیں چاہتی کہ بین الاقوامی صحافی اپنی آنکھوں سے غزہ کی صورتحال کو دیکھ سکیں۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ریاست جان بوجھ کر صحافیوں کو نشانہ بناتی ہے۔ جبکہ اسرائیلی ریاست اس امر کی تردید کرتی ہے۔
اتوار کے روز صدر ٹرمپ نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک معاہدہ جلد سامنے آسکتا ہے۔ جس کے تحت تمام اسرائیلی قیدی رہا ہو سکیں گے۔
ایک اسرائیلی ذمہ دار نے ٹرمپ کی اس تجویز کے بارے میں کہا اسرائیل بہت سنجیدگی سے اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ تاہم اسرائیلی عہدیدار نے تجویز کے نکات بیان نہیں کیے۔
یاد رہے 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 64 ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ جبکہ گزشتہ روز مزید 6 افراد جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں بھوک اور غذائی قلت کے ہتھیار سے قتل کیے گئے ہیں۔ اب بھوک ، غذائی قلت اور قحط سے مرنے والے فلسطینیوں کی کل تعداد 393 ہو چکی ہے۔
مزیدپڑھیں:ملک بھر میںاگلے24گھنٹوں میں گرج چمک کیساتھ موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری


