Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

استنبول: غزہ فلوٹیلا کے 137 کارکن ترکی پہنچ گئے

استنبول (نیوز ڈیسک) اسرائیل کی جانب سے غزہ جانے والی امدادی فلوٹیلا کو روکنے اور اس میں شامل کارکنان کو حراست میں لینے کے بعد 137 سرگرم کارکنوں کو ملک بدر کر کے ترکی بھیج دیا گیا۔ یہ افراد ہفتے کے روز ترک ایئرلائنز کی پرواز کے ذریعے استنبول ایئرپورٹ پہنچے۔

ترک وزارتِ خارجہ کے مطابق اس گروپ میں 36 ترک شہری بھی شامل ہیں جبکہ دیگر کارکنوں کا تعلق امریکہ، متحدہ عرب امارات، الجزائر، مراکش، اٹلی، کویت، لیبیا، ملائشیا، موریتانیا، سوئٹزرلینڈ، تیونس اور اردن سے ہے۔

450 سے زائد کارکن گرفتار

اٹلی کے وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے بتایا کہ فلوٹیلا میں شامل 26 اطالوی شہریوں کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ مزید 15 اب بھی اسرائیل میں زیرِ حراست ہیں اور آئندہ چند روز میں انہیں بھی ملک بدر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اٹلی اپنے شہریوں کے حقوق کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے تل ابیب میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے معاملے کی نگرانی کر رہا ہے۔

پہلا گروپ جمعہ کو روم پہنچا جس میں چار اطالوی پارلیمنٹرین شامل تھے۔ اطالوی رکن پارلیمان آرٹورو اسکاٹو نے کہا کہ “قانونی طور پر عمل کرنے والے وہ لوگ تھے جو کشتیوں پر سوار تھے، جبکہ غیر قانونی طور پر عمل کرنے والے وہ تھے جنہوں نے ہمیں غزہ پہنچنے سے روکا۔”

ایک اور اطالوی رکن پارلیمان بینیڈیٹا سکودیری نے الزام لگایا کہ انہیں “بربریت سے روکا گیا اور یرغمال بنایا گیا۔”

کارکنوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک

اسرائیلی تنظیم “عدالہ” کے مطابق کئی کارکنوں کو وکلاء سے رابطے کا موقع نہ دیا گیا، انہیں پانی، ادویات اور بیت الخلا کے استعمال سے محروم رکھا گیا۔ مزید یہ کہ بعض کارکنوں کو “گھنٹوں تک گھٹنوں کے بل باندھ کر رکھا گیا” کیونکہ وہ “فری فلسطین” کے نعرے لگا رہے تھے۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ تمام کارکنوں کو پانی، کھانا اور بیت الخلا کی سہولت دی گئی، اور انہیں قانونی نمائندگی کا حق بھی حاصل رہا۔

غزہ کے لیے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش

یہ فلوٹیلا اگست کے آخر میں روانہ ہوئی تھی جس کا مقصد اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑ کر غزہ میں امداد پہنچانا تھا۔ اسرائیلی حکام نے اس مشن کو “سیاسی حربہ” قرار دیا اور کہا کہ غزہ پر بحری ناکہ بندی مکمل طور پر قانونی ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور غزہ کے درمیان کشیدگی 2023 میں اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب حماس نے اسرائیل پر مہلک حملہ کیا، جس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر وسیع جنگ چھیڑ دی تھی۔


مزیدپڑھیں:خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 4.3 شدت کا زلزلہ

یہ بھی پڑھیں