کابل ( اوصاف نیوز)بھارت نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اپنے تکنیکی مشن کو مکمل سفارت خانے میں تبدیل کر رہا ہے۔
اس بات کا اعلان بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ نئی دہلی میں ملاقات کے بعد کیا۔
یہ ملاقات طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی سفارتی رابطہ ہے۔
جے شنکر نے کہا کہ بھارت افغانستان میں ترقی، تجارت، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا۔
انہوں نے افغانستان کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کے لیے بھارت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے درمیان قریبی تعاون نہ صرف آپ کی قومی ترقی میں مددگار ہے بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
متقی کا نئی دہلی کا دورہ
طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی جمعرات کو نئی دہلی پہنچے۔ ان کا یہ دورہ روس میں افغانستان سے متعلق ایک بین الاقوامی اجلاس کے بعد ہوا جس میں چین، بھارت، پاکستان اور وسطی ایشیا کے ممالک کے نمائندے شریک تھے۔
واضح رہے کہ متقی اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
طالبان سے رابطے: بھارت کی نئی حکمت عملی
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی جانب سے طالبان کے ساتھ یہ رابطہ نئی دہلی کی افغان پالیسی میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھارت اور طالبان کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں تاہم حالیہ برسوں میں دونوں کے درمیان روابط میں بتدریج بہتری آئی ہے۔
اس سے قبل بھارت کے خارجہ سیکریٹری وکرم مسری نے جنوری میں دبئی میں امیر خان متقی سے ملاقات کی تھی جبکہ بھارت کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے نے اپریل 2025 میں کابل کا دورہ کیا تھا تاکہ سیاسی و تجارتی تعاون پر بات چیت کی جا سکے۔
پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں دورہ
یہ پیشرفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں خصوصاً افغان مہاجرین کی واپسی اور سرحدی مسائل کے حوالے سے تناؤ پایا جا رہا ہے۔
پس منظر: بھارت اور طالبان کا پیچیدہ تعلق
جب طالبان نے 4 سال قبل کابل کا کنٹرول سنبھالا تو بھارتی تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس سے پاکستان کو فائدہ ہوگا اور کشمیر میں عسکریت پسندی کو تقویت ملے گی۔
مزید پڑھیں:کدو کے بیج کا تیل بالوں کیلئے کتنا مفید؟



