Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

برطانیہ کا ہائی اَرنرز کیلئے فاسٹ ٹریک ریزیڈنسی منصوبہ: پاکستانی پروفیشنلز کیلئے اہم موقع

لندن(نیوز ڈیسک) برطانوی حکومت نے ہائی اَرنرز اور ہنر مند افراد کے لیے مستقل رہائش حاصل کرنے کا تیز ترین راستہ متعارف کراتے ہوئے امیگریشن پالیسی میں اہم اور وسیع تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد سٹی آف لندن اور دیگر کلیدی شعبوں میں کام کرنے والے اعلیٰ تنخواہ دار پروفیشنلز کو برطانیہ میں برقرار رکھنا ہے۔ نئی پالیسی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت مجموعی طور پر امیگریشن پر سخت اقدامات کر رہی ہے۔

وزیر داخلہ شبانہ محمود نے اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں مستقل رہائش حاصل کرنا کوئی بنیادی حق نہیں بلکہ ایک اعزاز ہے جسے حاصل کرنے کے لیے اہلیت اور ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا۔ اس بیان کے ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ سابقہ تجاویز سے مختلف ہے جن میں ILR کے معیار کو دس برس تک بڑھانے کی تجویز دی گئی تھی۔

نئی ہدایات کے مطابق تین مختلف کیٹیگریز میں پروفیشنلز کو مختلف مدت کے بعد Indefinite Leave to Remain یعنی ILR کے لیے درخواست دینے کی اجازت ہوگی۔ سالانہ 125,000 پاؤنڈ سے زائد آمدنی رکھنے والے افراد صرف تین سال میں مستقل رہائش کے اہل ہو سکیں گے، جبکہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ پچیس ہزار پاؤنڈ سالانہ آمدنی والے افراد کو پانچ سال کا عرصہ مکمل کرنا ہوگا۔ دیگر ویزا ہولڈرز کیلئے ILR کی بنیادی مدت دس سال مقرر کی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہریوں سمیت دنیا بھر سے آنے والے وہ افراد جو Global Talent یا Innovator Founder ویزا رکھتے ہیں، انہیں بھی تیز ترین راستے تک رسائی حاصل ہوگی۔ ان ویزوں کے حامل افراد کو برطانیہ میں کاروباری سرگرمیاں اور اعلیٰ سطح کی پیشہ ورانہ کارکردگی دکھانے کی بنیاد پر ترجیح دی جائے گی۔

برطانوی حکومت نے ILR کے لیے درخواست دینے والوں کیلئے مزید سخت مالی اور اخلاقی شرائط بھی عائد کی ہیں۔ درخواست گزار کو تین برس تک ٹیکس ادائیگی کا ریکارڈ فراہم کرنا ہوگا جبکہ ہوم آفس یا نیشنل ہیلتھ سروس سمیت کسی بھی ریاستی ادارے کے مقروض نہ ہونے کی شرط بھی شامل کی گئی ہے۔ انگریزی زبان کی مہارت ثابت کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، اور اگر کوئی شخص A-Level سے زیادہ درجہ کی زبان دانی ثابت کر دے تو دس سالہ مدت نو برس تک کم ہوسکتی ہے۔

نئی پالیسی میں جرمانوں کا نظام بھی شامل ہے جو ممکنہ طور پر ILR کے انتظار میں اضافی برس شامل کر دے گا۔ حکومتی فوائد لینے والے افراد پر جرمانے عائد کیے جائیں گے جن کی مدت پانچ سے دس برس تک بڑھ سکتی ہے۔ اسی طرح غیر قانونی راستے سے برطانیہ پہنچنے والے افراد کو دس سالہ بنیادی مدت کے اضافے کے ساتھ بیس برس مزید انتظار کرنا ہوگا۔

حکومت نے بعض گروپوں کو نئی پالیسی سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ان میں ہیلتھ کیئر ورکرز، اساتذہ، اور پبلک سروس کے مخصوص ملازمین شامل ہیں جو بدستور پانچ سال کے معیار کے تحت ہی مستقل رہائش حاصل کر سکیں گے۔ علاوہ ازیں برٹش نیشنل (اوورسیز) ویزا ہولڈرز، Windrush کے اہل افراد اور EU Settlement Scheme کے تحت آنے والوں پر یہ نئے قوانین لاگو نہیں ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق نئے فاسٹ ٹریک ریزیڈنسی منصوبے نے ہائی اَرنرز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے درمیان پائی جانے والی بے یقینی کو کم کر دیا ہے۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے برطانیہ کو عالمی سطح پر ہنر مند افراد کے مقابلے میں بہتر پوزیشن ملے گی اور ٹیلنٹ ہنٹ کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے برطانیہ منتقل ہونے کے خواہش مند پروفیشنلز کے لیے یہ منصوبہ نہ صرف ایک نیا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ اعلیٰ آمدنی رکھنے والوں کے لیے مستقل رہائش کا سب سے تیز راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:ایشیا کپ رائزنگ اسٹار: بنگلہ دیش کی سپر اوور میں بھارت کو شکست، فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

یہ بھی پڑھیں