Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

ایک اور ملک کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی لگانے کیلئے تیار

کوپن ہیگن(نیوز ڈیسک)آسٹریلیا کی جانب سے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کے فیصلے کے بعد اب ڈنمارک بھی اسی طرز کی پابندی لگانے کی تیاری میں مصروف ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈنمارک کی حکومت نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ 15 سال سے کم عمر سوشل میڈیا صارفین کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جو یورپی یونین میں نوعمروں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

رپورٹس ے مطابق یہ قانون فی الحال ایک تجویز کی صورت میں ہے جسے حکومتی اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، منظوری کی صورت میں یہ قانون 2026 تک نافذ کیا جاسکتا ہے۔

اس بات کا امکان ہے کہ والدین 13 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو اجازت دے سکیں گے تاہم 13 سال سے کم عمر بچوں کو خود سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔

رپورٹس کے مطابق ڈنمارک میں 13 سال سے کم عمر 98 فیصد بچے اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ رکھتے ہیں، جس سے قوانین پر عمل درآمد کے مسائل نمایاں ہوتے ہیں۔

ڈنمارک کی وزیر برائے ڈیجیٹل امور کیرولین اسٹیج کے مطابق جس طرح حقیقی دنیا میں عمر کی بنیاد پر پابندیاں لگائی گئی ہیں، ویسے ہی ڈیجیٹل دنیا میں بھی نگرانی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل دنیا میں کوئی باڈی گارڈ موجود نہیں، اس لئے ہمیں اس حوالے سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹس کے مطابق پابندی سے متعلق ایک خدشہ یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اس سے نوجوان اپنے آن لائن دوستوں سے رابطہ نہیں رکھ سکیں گے، تاہم کئی والدین نے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔

صارف کی عمر کی تصدیق کے لیے ڈنمارک ایک ڈیجیٹل ایویڈنس ایپ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کے ذریعے پابندی پر عمل یقینی ہوسکے گا۔
مزیدپڑھیں:پی ٹی آئی کی مشکلات میں اضافہ، پارلیمانی ارکان سے بڑا مطالبہ کردیا

یہ بھی پڑھیں