Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

ماہانہ آمدنی اسکیم (MIS): ریٹائرڈ افراد اور گھریلو خواتین کے لیے محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) پوسٹ آفس کی ماہانہ آمدنی اسکیم (MIS) اُن افراد کے لیے ایک بہترین سرکاری سرمایہ کاری منصوبہ ہے جو محفوظ طریقے سے باقاعدہ ماہانہ آمدنی حاصل کرنا چاہتے ہیں، خاص طور پر ریٹائرڈ معمر شہریوں اور گھریلو خواتین کے لیے یہ اسکیم نہایت موزوں سمجھی جا رہی ہے۔

اس اسکیم کے تحت سرمایہ کار کو 5 سال کے لیے یک مشت رقم جمع کروانا ہوتی ہے، جس کے بعد ڈپازٹ کی تاریخ سے ہی پوسٹ آفس کی جانب سے ہر ماہ سود کی ادائیگی شروع ہو جاتی ہے۔ اس وقت MIS پر سالانہ 7.4 فیصد شرح سود دی جا رہی ہے جو کئی بینک اسکیموں سے زیادہ ہے۔

اس اسکیم کی خاص بات یہ ہے کہ اصل سرمایہ محفوظ رہتا ہے اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ ہر ماہ سود براہِ راست پوسٹ آفس اکاؤنٹ میں جمع کر دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی فرد 1 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کرے تو اسے ہر ماہ تقریباً 616 روپے سود ملتا ہے، جبکہ 5 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر ماہانہ آمدنی تقریباً 3,083 روپے بنتی ہے۔

ایک فرد اپنے نام پر زیادہ سے زیادہ 9 لاکھ روپے تک سرمایہ کاری کر سکتا ہے، جس سے اسے ہر ماہ تقریباً 5,550 روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ مشترکہ اکاؤنٹ کی صورت میں دو یا تین افراد مل کر 15 لاکھ روپے تک کی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ اس اسکیم میں کم از کم سرمایہ کاری کی حد صرف 1,000 روپے ہے۔

5 سال کی مدت مکمل ہونے پر سرمایہ کار کو اس کی پوری جمع شدہ رقم واپس مل جاتی ہے، جسے دوبارہ اسی اسکیم میں لگایا جا سکتا ہے یا کسی اور ضرورت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ اسکیم مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے متاثر نہیں ہوتی، اسی لیے اسے مکمل طور پر محفوظ سرمایہ کاری قرار دیا جاتا ہے۔

مزید سہولت کے طور پر، سرمایہ کار کسی بھی خاندان کے فرد کو نامزد (Nominee) کر سکتا ہے تاکہ کسی ناگہانی صورتِ حال میں رقم کا حصول آسان ہو۔ البتہ ماہرین کے مطابق اس اسکیم سے حاصل ہونے والا سود قابلِ ٹیکس ہوتا ہے، جسے سرمایہ کاری سے قبل مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

مجموعی طور پر، پوسٹ آفس ماہانہ آمدنی اسکیم اُن افراد کے لیے ایک پُرکشش اور محفوظ انتخاب ہے جو کم خطرے کے ساتھ مستقل ماہانہ آمدنی چاہتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:’’ایمانداری ایمان کا حصہ ، ناحق مال انسان کے رزق سے برکت چھین لیتا ہے‘‘

یہ بھی پڑھیں