Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ آخری لمحے میں ٹل گئی، دنیا ایک بڑے تصادم کے دہانے سے واپس

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک)مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ رات ایک انتہائی سنگین صورتحال پیدا ہو گئی تھی، جب دنیا ایک بڑی جنگ کے قریب پہنچ کر واپس آئی۔ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز ہائی الرٹ پر تھیں اور امریکا نے اسرائیل کو آگاہ کر دیا تھا کہ ایران پر ممکنہ حملہ کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس ممکنہ کارروائی کے پیشِ نظر قطر کے ایک اہم ایئربیس سے غیر متعلقہ افراد کو نکال دیا گیا تھا جبکہ امریکی فضائیہ کے فیول ٹینکرز فضا میں بھیج دیے گئے تھے۔ تاہم آخری لمحے میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کو روک دیا، جس کے باعث صورتحال مزید بگڑنے سے بچ گئی۔

ایران اور روس کا ردعمل

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ کسی مذاکرات یا سفارتی کوشش کے باعث نہیں رکا۔ ایران نے روس کے ذریعے اسرائیل کو پیغام دیا کہ وہ پہل نہیں کرے گا، تاہم اگر ایران پر حملہ ہوا تو اسرائیلی شہروں کو شدید نقصان پہنچایا جائے گا۔ اگرچہ اسرائیل کی جانب سے بھی فی الحال حملہ نہ کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے، لیکن ایرانی قیادت اسرائیلی یقین دہانیوں پر مکمل اعتماد کے لیے تیار نہیں۔

چینی طیاروں کی پراسرار آمد

ایک حیران کن پیش رفت میں، ایران کی فضائی حدود بند ہونے کے باوجود چین سے دو سویلین طیارے (ماہان ایئر) اچانک تہران پہنچے۔ اس پیش رفت نے ماہرین میں یہ شبہ پیدا کر دیا ہے کہ ممکنہ طور پر کوئی حساس ٹیکنالوجی یا دفاعی سامان منتقل کیا گیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی سرگرمیاں ایک ’فیک آؤٹ‘ یا دباؤ کی حکمتِ عملی ہو سکتی ہیں، جس کا مقصد ایران کے دفاعی اور ریڈار نظام کا ردعمل جانچنا تھا۔

ٹرمپ کی ہچکچاہٹ اور طویل جنگ کا خوف

ذرائع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیے گئے ممکنہ اہداف پسند نہیں آئے تھے۔ وہ طویل جنگ کے حق میں نہیں تھے اور صرف ایسی محدود کارروائی چاہتے تھے جو چند دنوں میں ختم ہو جائے۔ ٹرمپ کو خدشہ تھا کہ ایران کے خلاف حملے کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈے شدید خطرے میں آ جائیں گے اور صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی نہیں کرائی گئی تھی کہ اس کارروائی سے ایرانی حکومت کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

آنے والے دنوں میں غیر یقینی صورتحال

اگرچہ فی الحال طیارے واپس بلا لیے گئے ہیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا خطے سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ قطر سے امریکی فیول ٹینکرز کی پروازیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ تیاری مکمل تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی غیر متوقع فیصلے کرنے کی عادت کے باعث مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ طاقت کا مظاہرہ اب بھی امریکی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
مزیدپڑھیں:نیدرلینڈز کے سفیر کی وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے ڈیجیٹل میڈیا فہد ہارون سےملاقات

یہ بھی پڑھیں