Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

خواتین و بچوں کے حقوق کی علمبردار اماراتی خاتون ہند العویس کے جیفری ایپسٹین سے تعلقات ،ہوشرباانکشافات

ابوظہبی/واشنگٹن (نیوز ڈیسک)حالیہ دنوں میں منظرِ عام پر آنے والی غیر مُہر بند دستاویزات، جنہیں ایپسٹین فائلز کہا جا رہا ہے، نے اماراتی سفارتکار اور متحدہ عرب امارات کی پرمننٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی ڈائریکٹر Hind Al-Owais کو شدید عوامی اور میڈیا جانچ پڑتال کی زد میں لا دیا ہے۔ ان دستاویزات میں امریکی فنانسر Jeffrey Epstein کے ساتھ 2011 اور 2012 کے دوران ہونے والی مبینہ ای میل خط و کتابت شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق ان ریکارڈز میں دونوں کے درمیان تقریباً 469 ای میلز کا ذکر کیا گیا ہے۔ تنازع کی بنیادی وجہ ان ای میلز میں موجود چند جملے اور اشارے ہیں جنہیں سوشل میڈیا اور بعض غیر ملکی میڈیا ادارے مشکوک قرار دے رہے ہیں۔

بہن سے متعلق ای میل

جنوری 2012 کی ایک ای میل میں مبینہ طور پر ہند الواویس نے ایپسٹین کو اپنی بہن سے متعارف کرانے کے جوش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:
“وہ مجھ سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔”
سوشل میڈیا پر کچھ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ اس وقت ان کی بہن کی عمر 13 سال تھی، تاہم اس مخصوص عمر کے دعوے کی ابھی تک کسی بڑے اور معتبر میڈیا ادارے نے آزادانہ تصدیق نہیں کی۔

“دو لڑکیوں” والا جملہ

ایک اور ای میل، جس پر خاصی بحث ہو رہی ہے، میں ہند الواویس کی طرف منسوب یہ جملہ سامنے آیا:
“ایک لڑکی کو تیار کرنا ہی مشکل ہوتا ہے، دو لڑکیاں تو یقیناً ایک چیلنج ہیں۔”
ناقدین اس جملے کو اخلاقی طور پر قابلِ اعتراض قرار دے رہے ہیں، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق صرف اس نوعیت کے جملے کسی جرم کا براہِ راست ثبوت نہیں بنتے جب تک مزید شواہد سامنے نہ آئیں۔

کیریئر کا پس منظر

اہم بات یہ ہے کہ یہ ای میلز اس وقت کی ہیں جب ہند الواویس ابھی اعلیٰ عالمی عہدوں پر فائز نہیں تھیں۔ بعد ازاں انہیں 2015 میں نیویارک میں UN Women میں سینئر ایڈوائزر مقرر کیا گیا۔ فائلز میں یہ ضرور دکھایا گیا ہے کہ وہ ایپسٹین کے نیٹ ورک کے قریب تھیں، لیکن ایسی کوئی ٹھوس شہادت سامنے نہیں آئی کہ ایپسٹین نے براہِ راست ان کی تقرریوں میں کوئی کردار ادا کیا ہو۔

قانونی حیثیت اور امریکی مؤقف

فروری 2026 تک ہند الواویس پر کسی قسم کا کوئی فوجداری مقدمہ یا الزام عائد نہیں کیا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان فائلز میں موجود مواد “خام اور غیر تصدیق شدہ” نوعیت کا ہے، اور صرف ان ریکارڈز میں کسی کا نام آ جانا خود بخود کسی جرم کا ثبوت نہیں بنتا۔

عوامی ردِعمل اور خاموشی

خواتین اور بچوں کے حقوق کی علمبردار کے طور پر ہند الواویس کی عوامی شبیہ اور ان انکشافات کے درمیان تضاد نے دنیا بھر میں احتساب اور شفافیت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاحال نہ تو ہند الواویس کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے آیا ہے اور نہ ہی متحدہ عرب امارات کے حکام نے اس معاملے پر سرکاری ردِعمل دیا ہے۔ البتہ اطلاعات کے مطابق دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند یا نجی کر دیے ہیں۔
مزیدپڑھیں:جیفری ایپسٹین کے پاکستان میں پولیو مہم سے متعلق روابط سامنے آ گئے

یہ بھی پڑھیں