Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

امریکا نے ’ڈومز ڈے طیارہ‘ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کردیا

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکا نے اپنے خصوصی کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارے E-6B Mercury کو خطے میں تعینات کر دیا ہے، جسے عموماً “Doomsday Plane” یعنی قیامت کے دن کا طیارہ بھی کہا جاتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پیش رفت کی اطلاع 5 مارچ کو سامنے آئی، جب عسکری طیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اوپن سورس انٹیلیجنس (OSINT) ماہرین نے اس طیارے کی پرواز کو ٹریک کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ خصوصی طیارہ 4 مارچ کو مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ ہوا تھا۔

یہ طیارہ دراصل ایک فضائی کمانڈ سینٹر کے طور پر کام کرتا ہے اور اسے اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ جنگ یا ہنگامی صورتحال میں امریکی جوہری افواج کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا جا سکے۔ اس طیارے کا ایک اہم کام سمندر میں موجود امریکی جوہری آبدوزوں تک محفوظ پیغامات اور احکامات پہنچانا بھی ہے۔

ماہرین کے مطابق United States Navy کے زیرِ استعمال یہ طیارہ جدید مواصلاتی نظام سے لیس ہے، جس کے ذریعے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کے لانچ کوڈز بھی منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ نظام اس قابل ہے کہ اگر زمینی کمانڈ سینٹرز تباہ بھی ہو جائیں تو بھی امریکی جوہری افواج کو احکامات پہنچائے جا سکیں۔

رپورٹس کے مطابق Northrop Grumman نے جون 2023 میں اس طیارے کا اپ گریڈڈ ورژن امریکی بحریہ کے حوالے کیا تھا۔ اس اپ گریڈ کا مقصد طیارے کے اندرونی آلات اور کمیونیکیشن سسٹمز کو مزید جدید بنانا تھا تاکہ جنگی حالات میں اس کی کارکردگی بہتر ہو سکے۔

موجودہ صورتحال میں اس طیارے کی تعیناتی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جاری کشیدگی میں اس طیارے کا مخصوص کردار کیا ہوگا۔

دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف طویل مدتی فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جو ممکنہ طور پر کم از کم 100 دن تک جاری رہ سکتا ہے اور ستمبر تک بھی بڑھ سکتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ایسا ہوا تو مشرقِ وسطیٰ میں تعینات اس نوعیت کے اسٹریٹجک طیاروں کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں صورتحال انتہائی حساس اور سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔
مزیدپڑھیں:ایران اسرائیل تنازع: بنگلہ دیش میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں

یہ بھی پڑھیں