اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ایک تازہ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد اس کی حقیقت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ ویڈیو میں نیتن یاہو ایک فوجی ایئر بیس کا دورہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں جہاں وہ امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر گفتگو کر رہے ہیں۔ ویڈیو کے پس منظر میں امریکی جھنڈے اور جدید لڑاکا طیارہ F-35 Lightning II بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا اور بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے ویڈیو کے اصل ہونے پر شکوک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو 2 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، جس کے باعث ان کی موجودگی سے متعلق قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔
کچھ غیر مصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 3 مارچ کو Islamic Revolutionary Guard Corps کے ایک مبینہ حملے کے دوران نیتن یاہو کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد ان کے زخمی یا ہلاک ہونے کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
مزید برآں اسرائیلی وزیر اعظم کے سرکاری طیارے کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ طیارہ اسرائیل سے روانہ ہو کر Berlin میں اترا، لیکن مبینہ طور پر اس میں صرف عملہ موجود تھا جس سے قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی۔
ویڈیو کی نوعیت بھی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے کیونکہ اس میں موجود فوجیوں کے چہرے دھندلے دکھائے گئے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کی گئی یا پہلے سے ریکارڈ شدہ ہو سکتی ہے۔
مزید یہ کہ ویڈیو کسی بڑے اسرائیلی ٹی وی چینل کے بجائے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر وزیراعظم آفس کے اکاؤنٹ سے جاری کی گئی، جس پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دنوں اسرائیلی صدر Isaac Herzog زیادہ تر عوامی تقریبات میں نظر آ رہے ہیں جبکہ نیتن یاہو کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ممکنہ حملوں کے خطرے کے باعث محفوظ بنکروں میں موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کے مختلف شہروں اور تاریخی مقامات کو ہونے والے نقصانات کے باوجود وزیر اعظم کا عوام کے سامنے نہ آنا اس ویڈیو کی صداقت کے بارے میں شکوک کو مزید بڑھا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
مزیدپڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف نے اہم ترین حکومتی فیصلوں کا اعلان کردیا

