دبئی/تہران/ریاض (نیوز ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے جس کے اثرات صرف ایران، اسرائیل اور امریکہ تک محدود نہیں رہے بلکہ خلیجی ممالک کی سیاسی اور معاشی صورتحال بھی متاثر ہو رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری 2026 کو اسرائیل کی جانب سے ایران میں اہم اہداف پر حملوں کے بعد صورتحال نے نیا رخ اختیار کیا۔ مبینہ طور پر ان حملوں کا مقصد ایران کی اہم عسکری تنصیبات اور قیادت کو نشانہ بنانا تھا۔ اس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود مختلف امریکی فوجی تنصیبات اور اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق کشیدگی بڑھنے کے باعث خلیجی ممالک میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات میں صورتحال کے باعث دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن متاثر ہونے اور بعض پروازوں کی عارضی معطلی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل منڈی اور سرمایہ کاری پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بعض غیر ملکی سرمایہ کار اور کاروباری شخصیات عارضی طور پر خلیجی ممالک سے باہر منتقل ہونے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ عالمی مارکیٹس میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے اپنی سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سفارتی سطح پر بھی صورتحال میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر بعض اقدامات کیے ہیں جبکہ خلیجی ممالک کی جانب سے حملوں پر شدید ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔
مزیدپڑھیں:صرف پانچ ہزار میں الیکٹرک بائیک حاصل کریں؟ نئی سکیم متعارف


