تل ابیب(نیوز ڈیسک)ایران پر مسلسل اسرائیلی فضائی حملوں کے بیچ، اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی اور بسیج فورس کے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
کاتز نے آج منگل کے روز ایک ویڈیو پیغام میں وضاحت کی کہ “لاریجانی ملک کے اصل کمانڈر تھے”۔ انہوں نے مزید کہا “ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہم ہر متبادل کو نشانہ بنائیں گے اور ایرانی نظام کے قائدین کا پیچھا جاری رکھیں گے”۔ کاتز کے مطابق اسرائیل “ایران کو کئی دہائیاں پیچھے دھکیل رہا ہے”۔
اسرائیلی فوج نے بھی تہران کے قلب میں ہونے والے حملوں میں بسیج کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ فوج کے ترجمان افیخائے ادرعی نے ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ فوج “ایرانی نظام کے قائدین کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھے گی”۔
مباشر من العربية| تغطية مباشرة لتطورات حرب إيرانhttps://t.co/F7pXEE3uwP
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) March 15, 2026
دوسری جانب ایرانی حکام کی طرف سے ابھی تک کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی چینل ‘العالم’ نے جلد ہی لاریجانی کا پیغام موصول ہونے کی توقع ظاہر کی ہے۔
#عاجل ❌في ضربة دقيقة في طهران: جيش الدفاع قضى على قائد قوات البسيج
❌أغار سلاح الجو بتوجيه استخباراتي دقيق من هيئة الاستخبارات العسكرية أمس بشكلٍ موجه بالدقة في قلب طهران وقضى على المدعو غلام رضا سليماني قائد منظمة الباسيج خلال السنوات الست الأخيرة.
⭕️تشكل قوات البسيج جزءًا من… pic.twitter.com/wzaWYxg7WY
— افيخاي ادرعي (@AvichayAdraee) March 17, 2026
عراق کے شہر نجف میں پیدا ہونے والے لاریجانی ایرانی نظام کی با اثر ترین شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ انھوں نے اگست 2025 سے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات کی انجام دہی شروع کی تھی۔ وہ ملک کی سکیورٹی اور عسکری پالیسیوں کے اہم معمار سمجھے جاتے تھے، بالخصوص سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ان کا اثر و رسوخ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے قریبی حلقوں میں مزید بڑھ گیا تھا۔
واضح رہے کہ جنگ کے پہلے دن (28 فروری) اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبد الرحیم موسوی ہلاک ہو گئے تھے۔
اسرائیل نے ایرانی وزیرِ دفاع عزیز نصیر زادہ اور ان کے جانشین سمیت درجنوں فوجی افسران کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
مزید برآں اسرائیل نے خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبی خامنہ ای، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی، پاسدارانِ انقلاب کے نئے سربراہ احمد وحیدی اور خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔
مزیدپڑھیں:مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: پی آئی اے کا طیارہ الفجیرہ میں میزائل حملے سے بال بال بچ گیا



