Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ایران کا امریکا سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار، بڑی شرط رکھ دی

ایران(iran) نے امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اپنا وفد پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں بات چیت ممکن نہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے اسلام آباد میں مذاکراتی وفد بھیجنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا کی بحری ناکہ بندی برقرار ہے، کسی بھی قسم کے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے پہلے دور کے بعد حالیہ دنوں میں ایک پاکستانی ثالث کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری رہا ہے۔ یہ سلسلہ دراصل اسی سفارتی عمل کا تسلسل ہے جو ابتدائی مذاکرات کے دوران شروع ہوا تھا، تاہم بعد میں امریکی مطالبات اور شرائط کے باعث یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات نہ ہونے کے باوجود پسِ پردہ رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ پاکستانی ثالث اب بھی دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا کردار ادا کر رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔
مزیدپڑھیں:آئی فون 18 پرو اور پرو میکس 2026 کب لانچ ہوں گے؟ تاریخ سامنے آگئی
ایرانی مذاکراتی ٹیم نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ جب تک ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بحری ناکہ بندی کا فیصلہ برقرار رہے گا، اس وقت تک کسی بھی نئے مذاکراتی عمل کا آغاز ممکن نہیں ہوگا۔ ایران اس اقدام کو دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی قرار دے رہا ہے اور اس کے خاتمے کو مذاکرات کی بنیادی شرط بنا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں