امریکہ میں سیاسی منظرنامے میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں لوری چاویز ڈی ریمر (Lori Chavez de Remer)نے بدانتظامی کے الزامات کی تحقیقات کے دوران اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا جب محکمۂ محنت کے انسپکٹر جنرل کی جانب سے جاری تحقیقات اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی تھیں۔ ان تحقیقات میں مبینہ پیشہ ورانہ بدانتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کیتھ سونڈر لِنگ عبوری طور پر وزیرِ محنت کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ لوری چاویز ڈی ریمر موجودہ کابینہ چھوڑنے والی تیسری رکن بن گئی ہیں۔
اپنے استعفیٰ کے بعد جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کا سرکاری کردار ختم ہو رہا ہے، لیکن وہ امریکی محنت کشوں کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی اور نجی شعبے میں نئے مواقع کے لیے پُرامید ہیں۔
مزیدپڑھیں:سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی والدہ انتقال کر گئیں
تحقیقات میں یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ انہوں نے ذاتی نوعیت کے معاملات میں محکمے کے وسائل استعمال کیے اور اپنی سیکیورٹی ٹیم کے ایک رکن کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی تھیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کیس کے سلسلے میں ان سے باضابطہ پوچھ گچھ بھی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل کرسٹی نوم کو مارچ میں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، جبکہ پام بونڈی بھی مختصر مدت کے بعد اپنے منصب سے الگ ہو گئی تھیں۔
واضح رہے کہ لوری چاویز ڈی ریمر نے مارچ 2025 میں وزیرِ محنت کا منصب سنبھالا تھا اور اس سے قبل وہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔ ان کی نامزدگی کو دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی، اور انہوں نے اپنے پیغام میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کیا۔
