Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ایران کے اربوں ڈالرز کہاں پھنسے ہوئے ہیں ،حیران کن تفصیلات منظر عام پرآگئیں

امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران ایک اہم معاشی نکتہ ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثوں(Frozen assets) کی بحالی بھی سامنے آیا ہے، جسے تہران اپنی معاشی بحالی کے لیے بنیادی شرط کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

رپورٹس اور ماہرین کے اندازوں کے مطابق ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مجموعی مالیت 100 ارب ڈالر سے زائد ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

یہ رقوم بنیادی طور پر تیل کی برآمدات اور دیگر مالی لین دین سے حاصل ہونے والی آمدن ہیں جو مختلف بین الاقوامی پابندیوں کے باعث مختلف ممالک کے بینکوں میں منجمد ہو گئیں۔

یہ پابندیاں 1979 کے بعد شروع ہوئیں اور بعد ازاں ایران کے جوہری پروگرام کے باعث مزید سخت ہوتی گئیں، جس کے نتیجے میں تہران کو اپنی ہی کمائی ہوئی رقوم تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہا۔

مزیدپڑھیں:زمین اورجائیداد کی خریدوفروخت کے نظام میں بڑی تبدیلی

مختلف اندازوں کے مطابق چین میں تقریباً 20 ارب ڈالر، بھارت میں 7 ارب ڈالر، عراق میں 6 ارب ڈالر، قطر میں 6 ارب ڈالر اور جاپان میں تقریباً 1.5 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثے موجود ہیں۔ اسی طرح امریکا میں بھی تقریباً 2 ارب ڈالر جبکہ یورپی ممالک میں بھی مختلف رقوم منجمد ہیں، جن میں لگسمبرگ میں تقریباً 1.6 ارب ڈالر شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ منجمد اثاثے ایران کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ ملک اس وقت مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور معاشی سست روی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ان رقوم تک رسائی بحال ہو جاتی ہے تو ایران اپنی معیشت کو مستحکم کرنے، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور جنگ و پابندیوں کے بعد بحالی کے عمل کو تیز کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں