Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ہلاکت کے خوف سے امریکی فوج میں شمولیت کا رجحان کم، بھرتی کی عمر 42 سال کردی گئی

امریکا نے اپنی فوجی افرادی قوت کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر بھرتی کے قواعد میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد میں اضافہ کر دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی فوج(Us Army) میں بھرتی کی زیادہ سے زیادہ عمر 35 سال سے بڑھا کر 42 سال کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ برسوں میں بھرتی کے اہداف پورے نہ ہونے کے باعث کیا گیا ہے۔

نئے ضوابط آرمی ریگولیشن 601-201 کے تحت 20 اپریل سے نافذ ہو چکے ہیں اور ان کا اطلاق ریگولر آرمی، ریزرو اور نیشنل گارڈ پر بھی ہوگا۔
پالیسی میں ایک اور بڑی تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ ماریجوانا یا منشیات سے متعلق ایک مرتبہ سزا یافتہ افراد کے لیے بھرتی میں دی جانے والی چھوٹ (waiver) بھی ختم کر دی گئی ہے، جس سے بعض امیدواروں کے لیے راستے مزید محدود ہو گئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ 2024 اور 2025 میں بھرتی کے اہداف حاصل کر لیے گئے، تاہم 2022 اور 2023 میں فوج اپنے اہداف سے بالترتیب 25 اور 23 فیصد تک پیچھے رہی تھی۔ اسی طرح آرمی ریزرو گزشتہ چھ سال سے مسلسل ہدف پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کمی کی وجوہات میں لیبر مارکیٹ میں تبدیلی، نوجوانوں کی فوجی خدمات میں کم دلچسپی، صحت کے مسائل، موٹاپا، منشیات کا استعمال اور ذہنی صحت کے چیلنجز شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فوج میں شامل ہونے والوں کی اوسط عمر بھی بڑھ کر 22.7 سال ہو گئی ہے۔

مزیدپڑھیں:ایران کے اربوں ڈالرز کہاں پھنسے ہوئے ہیں ،حیران کن تفصیلات منظر عام پرآگئیں

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں نوجوان نسل کے درمیان فوجی مداخلت اور جنگی پالیسیوں کے حوالے سے تحفظات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

نئی تبدیلیوں کے بعد امریکی فوج کی بھرتی پالیسی اب دیگر سروسز جیسے ایئر فورس، نیوی اور کوسٹ گارڈ کے زیادہ قریب آ گئی ہے، جہاں نسبتاً زیادہ عمر میں بھی بھرتی کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ میرین کور میں عمر کی حد اب بھی زیادہ سخت ہے۔

اس وقت امریکی فوج میں تقریباً 13 لاکھ 20 ہزار فعال اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں سب سے بڑی تعداد آرمی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں