ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز(strait of hormuz) پر کنٹرول سے متعلق ایک نئے قانون کی منظوری دی ہے، جس کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر فیس یا ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قانون کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں سے “سیکیورٹی سروسز” کے نام پر فیس وصول کی جا سکے گی، جبکہ یہ بھی طے کیا جائے گا کہ کن ممالک کے جہاز اس راستے سے گزر سکیں گے۔ ایران مخالف ممالک کے جہازوں پر اضافی پابندیاں لگانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ آبنائے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی فیصلے کو عالمی سطح پر حساس قرار دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے سوشل میڈیا پیغام نے بھی توجہ حاصل کی ہے، جس میں انہوں نے امریکہ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے مختلف سوالات اٹھائے۔
مزیدپڑھیں:ایک ساتھ 3 چھٹیوں کے پیش نظر تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کا حکم
انہوں نے اپنے پیغام میں مہنگائی، عوام کی قوت خرید میں کمی اور طاقتور طبقات کے اثر و رسوخ جیسے مسائل کا ذکر کیا، جبکہ بعض مبصرین کے مطابق ان کے بیانات میں امریکہ کی داخلی سیاست اور مختلف اسکینڈلز کی طرف اشارہ بھی شامل تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس قانون پر عملی پیش رفت ہوتی ہے تو یہ خطے کی بحری تجارت اور عالمی توانائی کی ترسیل پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے، تاہم اس وقت یہ معاملہ سیاسی اور قانونی بحث کے مرحلے میں ہے۔
