Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

سری لنکا کی وزارتِ خزانہ پر سائبر حملہ، ہیکرز 25 لاکھ ڈالرز لے اُڑے

سری لنکا (Srilanka)کی وزارتِ خزانہ کے کمپیوٹر سسٹم پر ایک بڑے سائبر حملے میں مبینہ طور پر 25 لاکھ ڈالر کی رقم چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جسے ملکی تاریخ کے اہم ترین سائبر مالیاتی واقعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق یہ رقم آسٹریلیا کو قرض کی ادائیگی کے لیے مخصوص کی گئی تھی، تاہم ہیکنگ کے بعد یہ فنڈز غیر متوقع طور پر غائب ہو گئے۔ واقعے کے بعد مالیاتی نظام کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔

وزارتِ خزانہ کے سیکریٹری نے تصدیق کی ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد پبلک ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے چار سینئر افسران کو معطل کر دیا گیا ہے تاکہ تحقیقات غیر جانبدار انداز میں آگے بڑھ سکیں۔

رپورٹس کے مطابق معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وزارت کے ای میل سرور میں غیر معمولی سرگرمی نوٹ کی گئی۔ مزید جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ آسٹریلیا کو ادا کی جانے والی رقم میں سے 25 لاکھ ڈالر کا حصہ منتقل یا غائب ہو چکا ہے۔ اس واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں جبکہ سری لنکن حکام نے بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی مدد طلب کر لی ہے۔

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سری لنکا 2022 کے شدید معاشی بحران کے بعد اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اُس وقت ملک نے 46 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں پر ڈیفالٹ کیا تھا، جس کے بعد اسے بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے 2.9 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج کی منظوری ملی تھی۔ اسی سلسلے میں قرضوں کے بہتر انتظام کے لیے نیا ڈیبٹ مینجمنٹ آفس بھی قائم کیا گیا تھا۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نے ادائیگیوں میں بے ضابطگیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک سری لنکا کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے اور اس کی مالی بحالی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

سائبر ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے حملے نہ صرف مالیاتی نظام کی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ڈیجیٹل سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں