Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ایران کا آبنائے ہرمز پر نئی اتھارٹی قائم کرنے کا دعویٰ

ایران نے آبنائے ہرمز(Strait Of Hormuz) پر کنٹرول اور بحری نقل و حمل کی نگرانی کے حوالے سے اہم پیش رفت کرتے ہوئے نئی “خلیج فارس اسٹریٹ اتھارٹی” قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں تجارتی اور توانائی مارکیٹس سے متعلق خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی حکام کی جانب سے قائم کی گئی اس نئی اتھارٹی کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہوگا، جبکہ ایران اس اہم سمندری راستے کے استعمال پر ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران اس اقدام کو بحری سلامتی، تجارتی نگرانی اور علاقائی خودمختاری سے جوڑ رہا ہے، تاہم عالمی سطح پر اسے نہایت حساس پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں تیل کی بڑی مقدار اسی بحری گزرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے، اس لیے کسی بھی نئی پابندی، فیس یا اجازت نامے کے نظام سے عالمی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

سعودی عرب کا فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اس پالیسی کو مکمل طور پر نافذ کرتا ہے تو تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت سست پڑ سکتی ہے، جبکہ شپنگ کمپنیوں کے اخراجات میں اضافے کا امکان بھی پیدا ہو جائے گا۔ اس کے اثرات عالمی خام تیل کی قیمتوں اور درآمدی معیشتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ خلیجی خطے میں بحری سلامتی اور توانائی کی ترسیل عالمی طاقتوں کے لیے اہم معاملہ بنی ہوئی ہے۔

دوسری جانب عالمی مبصرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی سخت پالیسی عالمی تجارت، تیل کی سپلائی اور بین الاقوامی سفارتی تعلقات پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں