ابوجا(نیوز ڈیسک) افریقی ملک نائجر کے صحرائے صحارا میں گاڑی خراب ہونے پر پھنس جانے والے کم از کم 50 افراد پیاس سے جاں بحق ہو گئے۔
یہ بدقسمت گروہ مالی سے واپس آ رہا تھا، جہاں وہ عید الاضحیٰ کی تقریبات میں شرکت کے لیے گیا تھا، لیکن راستے میں ان کا پانی ختم ہو گیا اور وہ اسمکہ سے تقریباً 80 کلومیٹر مغرب میں پھنس گئے، جو نائجر اور الجزائر کے درمیان ایک اہم سرحدی گزرگاہ ہے۔
اگادیز کے گورنر نے کہا کہ مسافرایک ایسے خطرناک ماحول کے بیچ میں پھنس گئے جہاں انتہائی درجہ حرارت اور سہولیات کی عدم دستیابی بقا کو نہایت مشکل بنا دیتی ہے۔
صرف دو افراد زندہ بچ سکے، جو صحرا عبور کرتے ہوئے اسمکہ تک پہنچے اور وہاں حکام کو اطلاع دی۔
ایک مقامی این جی او کے سربراہ چیہو ازیزو نے بتایا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے خلاف ہم برسوں سے کام کر رہے ہیں، ہم ڈرائیوروں، مسافروں اور نقل نکانی سے متعلق سرگرمیوں میں شامل ہر فرد کو صحرا عبور کرنے کے خطرات کے بارے میں آگاہی دے رہے ہیں، عام طور پر ہم لیبیا یا الجزائر جانے والے راستوں پر اس طرح کے واقعات دیکھتے ہیں۔
اگادیز کے گورنر کے بیان کے مطابق یہ گاڑی مالی کے شہر تلہنڈیک سے روانہ ہوئی تھی لیکن اپنے مقررہ راستے سے بھٹک گئی، ڈرائیور اور مسافروں نے کئی دنوں تک گاڑی کو ٹھیک کرنے کی بار بار کوشش کی، لیکن ان کی یہ کوششیں آخرکار ناکام ثابت ہوئیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پانی سے محروم ہونے اور گاڑی کو ٹھیک نہ کر پانے کے باعث زیادہ تر لوگ زندہ نہ رہ سکے، درجنوں لاشیں اس ناکارہ لاری کے نیچے اور اس کے اطراف سے ملی ہیں۔
متاثرین، جو سب کے سب نائجر کے شہری تھے، کو مقامی حکام کی جانب سے بھیجی گئی امدادی ٹیم نے اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا۔
ریسکیو ٹیم نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے واپسی کے دوران انہیں ایک اور خراب گاڑی نظر آئی جس میں 60 سے زائد افراد سوار تھے، جو بیٹری خراب ہونے کے باعث تین دن سے پھنسے ہوئے تھے۔
گورنر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ لاری مالی کے شہر ہاروبا سے روانہ ہوئی تھی، جو نائجر کی سرحد سے 300 کلومیٹر سے زیادہ دور ہے، ریسکیو ٹیم، جس میں نائجر کی فوج بھی شامل تھی، انہوں نے تھکے ماندہ اور پریشان حال مسافروں میں پانی تقسیم کیا اور گاڑی کی مرمت میں مدد دی، جس کے بعد وہ محفوظ طریقے سے اپنا سفر دوبارہ شروع کرنے کے قابل ہو گئے۔
نائجر کا صحرا اب بھی مغربی افریقہ بھر سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، جو اس خطرناک سفر سے جڑے خطرات کے باوجود بار بار اسے اختیار کرتے ہیں۔
صحرا قریب ترین شہر اگادیز کے گورنر نے کہا کہ یہ سانحہ ان نوجوانوں کی کمزوری اور بے بسی کو اجاگر کرتا ہے جو ہجرت اور سرحد پار معاشی سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں اور اکثر بہتر زندگی کی تلاش میں غیر مستحکم علاقوں سے گزرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں۔آزاد کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند

