کم جونگ اُن میمز عالمی کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پر وائرل
کم جونگ اُن میمز اس وقت سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ صارفین مزاحیہ انداز میں شمالی کوریا کے رہنما کو عالمی کشیدگی کا صرف تماشائی دکھا رہے ہیں۔ یہ میمز اس وقت سامنے آئیں جب ایران
کم جونگ اُن میمز اس وقت سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ صارفین مزاحیہ انداز میں شمالی کوریا کے رہنما کو عالمی کشیدگی کا صرف تماشائی دکھا رہے ہیں۔ یہ میمز اس وقت سامنے آئیں جب ایران
حالیہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی اثاثے منتقلی کا رجحان بعض امیر ایشیائی سرمایہ کاروں میں دیکھا جا رہا ہے۔ جمعہ کے روز سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق دبئی میں مقیم کچھ کاروباری افراد نے
جرمنی ایران جنگ مؤقف اس وقت واضح ہوا جب جرمنی کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف کسی جنگ میں حصہ نہیں لے گا۔ انہوں نے ایران میں حکومت گرانے کی کسی کوشش کی بھی

ایران کی جنگی کامیابیوں سے متعلق ایک امریکی ٹی وی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں کئی اہم ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اردن میں نصب جدید تھاڈ ریڈار سسٹم
سعودی عرب ایران فضائی حدود فیصلہ کے بعد مشرق وسطیٰ میں اس اعلان کو اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ اس کی فضائی حدود، سمندر اور سرزمین ایران کے خلاف
China Iran Hormuz talks اس وقت جاری ہیں کیونکہ چین ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس بردار جہازوں کے محفوظ گزرنے پر بات کر رہا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے
ایران نے اسرائیلی ڈرون مار گرائے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے سات ڈرون طیاروں کو تباہ کر دیا۔ ایرانی فوجی حکام کے مطابق یہ ڈرون ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اسرائیل کی معیشت کو نقصان پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ جنگ کے پہلے ہفتے میں کاروبار، روزمرہ زندگی اور سرکاری ادارے متاثر ہوئے ہیں۔ اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق ایران کے خلاف
صرف چار دنوں میں ایران کے میزائلوں نے امریکا اور اسرائیل کے مہنگے دفاعی نظام پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی اور اسرائیلی دفاعی نظام، خاص طور پر پیٹریاٹ اور ٹوماہاک میزائل، تیزی سے ختم ہو
امریکی سینیٹ میں ایران جنگ پر احتجاج اس وقت سامنے آیا جب ایک سابق امریکی میرین نے سماعت کے دوران نعرے لگائے۔ یہ واقعہ واشنگٹن میں اس وقت پیش آیا جب سینیٹ میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی