واشنگٹن (نیوز ڈیسک) عالمی توانائی کی منڈی میں حالیہ کشیدگی اور پابندیوں میں نرمی کے بعد روس کو معاشی فائدہ ہونے کی بحث تیز ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے رہنما کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک روس اپنی تیل کی پیداوار کا بڑا حصہ فروخت کرنے میں مشکلات کا شکار تھا اور اسے عالمی منڈی میں تیل رعایتی قیمتوں پر بیچنا پڑ رہا تھا۔ اس دوران جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تقریباً 60 ڈالر فی بیرل تھی تو روس اسے تقریباً 48 سے 51 ڈالر فی بیرل تک فروخت کر رہا تھا۔
تاہم حالیہ ہفتوں میں حالات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث بعض پابندیوں میں نرمی کی گئی تاکہ بھارت جیسے ممالک روسی تیل خرید سکیں۔ اس صورتحال کے بعد روس نے خریدار ممالک کو رعایت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق روس نے بھارت کو پیغام دیا ہے کہ اب تیل پر پہلے جیسی رعایت نہیں دی جائے گی کیونکہ عالمی منڈی میں طلب بڑھ چکی ہے۔ روسی حکام کے مطابق موجودہ حالات میں خریداروں کو روسی تیل کی ضرورت ہے، اس لیے قیمتوں میں کمی کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی اور پابندیوں میں نرمی کے فیصلے عالمی سیاست اور معیشت دونوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جبکہ اس صورتحال میں روس کو معاشی طور پر نمایاں فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:اتحادیوں کیساتھ ملکر کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کھول دیں گے؛ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی


