خلیج فارس(Persian Gulf) میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سرمایہ کاروں نے سونے (Gold)کی منتقلی کے رجحان میں نمایاں اضافہ کر دیا، جس کے نتیجے میں سنگاپور کو غیر معمولی فائدہ حاصل ہوا ہے جبکہ دبئی سے سونے کی درآمد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مارچ کے دوران سنگاپور نے دبئی سے 1,446 کلوگرام سونا درآمد کیا، جو گزشتہ پانچ برس کے دوران سب سے زیادہ سطح ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیجی خطے میں تقریباً آٹھ ہفتوں سے جاری تنازع نے سرمایہ کاروں کو متبادل اور محفوظ مقامات کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔
ڈیلرز اور لاجسٹکس کمپنیوں کے مطابق متحدہ عرب امارات میں سونا ذخیرہ کرنے والے امیر سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی بڑھی اور فضائی حدود متاثر ہوئیں تو سونے کی منتقلی مشکل ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ انشورنس کوریج سے متعلق بھی خدشات سامنے آئے ہیں، کیونکہ عام انشورنس پالیسیاں جنگی نقصانات کو کور نہیں کرتیں جبکہ خصوصی انشورنس انتہائی مہنگی ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سنگاپور کا مضبوط مالیاتی نظام، سخت سیکیورٹی اور قابل اعتماد سروسز اسے سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بناتے ہیں۔ اسی وجہ سے بڑی تعداد میں ہائی نیٹ ورتھ افراد اپنے سونے کے ذخائر ایشیائی مراکز منتقل کر رہے ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ سیزفائر کے بعد ختم ہوچکی، ٹرمپ انتظامیہ
دوسری جانب متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے سونے کی ریفائننگ، تجارت اور برآمد کا ایک اہم عالمی مرکز رہا ہے، جہاں سے ایشیا بھر کے خریدار مستفید ہوتے ہیں۔ تاہم ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے اس حیثیت کو وقتی طور پر متاثر کیا ہے۔
بین الاقوامی لاجسٹکس کمپنیوں کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک سینکڑوں کلوگرام سونا دبئی سے سنگاپور اور ہانگ کانگ منتقل کیا جا چکا ہے۔ ابتدائی دنوں میں سرمایہ کاروں کی جانب سے روزانہ بڑی تعداد میں منتقلی کی درخواستیں موصول ہو رہی تھیں۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلتا ہے تو دبئی میں رکھے گئے سونے کی انشورنس اور سیکیورٹی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ تاہم کئی تجزیہ کار اس صورتحال کو عارضی قرار دے رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد دبئی ایک بار پھر خطے میں سونے کے بڑے مرکز کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھے گا۔
ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سونے کی منتقلی کا یہ رجحان مکمل طور پر مستقل نہیں ہوگا بلکہ جیسے ہی خطے میں استحکام آئے گا، سرمایہ کار دوبارہ اپنے اثاثے خلیجی مراکز میں منتقل کر سکتے ہیں۔

