آبنائے ہرمز(Strait of Hormuz) میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے اثرات پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایشیائی مارکیٹوں میں برینٹ خام تیل کی قیمت 2.3 فیصد اضافے کے بعد 102.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل (WTI) 2.1 فیصد مہنگا ہو کر 96.80 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرنے لگا۔
عالمی منڈی میں اس اضافے کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمت بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آئل انڈسٹری کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 270 روپے 3 پیسے سے بڑھ کر 274 روپے 77 پیسے فی لیٹر تک جا سکتی ہے، یعنی تقریباً 4 روپے 75 پیسے فی لیٹر اضافے کی توقع ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کی سابقہ ایڈجسٹمنٹ ختم ہونے سے بھی مقامی قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔ اگرچہ پریمیم اور دیگر اخراجات میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم مجموعی اضافے کو روکا نہ جا سکا۔
دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں صرف 20 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ صنعتی ذرائع کے مطابق عالمی سطح پر ڈیزل مہنگا ہونے کے باوجود کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر اخراجات میں کمی کے باعث صارفین پر اضافی بوجھ نسبتاً کم رہنے کی توقع ہے۔
پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ یا کمی سے متعلق فیصلہ وزارت پیٹرولیم کرے گی: وفاقی وزیرِ خزانہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات فوری محسوس کرتے ہیں، جبکہ ڈیزل کی قیمتوں کو حکومتی پالیسیوں اور ٹیکس ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے کسی حد تک مستحکم رکھا جاتا ہے۔
ادھر امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کو ناکام بنایا اور خلیج فارس سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے دوران جوابی کارروائیاں بھی کیں۔ دوسری جانب ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نے پہلے حملہ کیا تھا۔

