Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سابق سپیکر اور احتساب کی چھری

مثل مشہور ہے کہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بعض سیاستدانوں کے معاملے میں بھی یہی ہوا ہے کہ جو مصالحت کاری کیلئے کوشاں ہونے کا ڈرامہ کرکے یا اپنی سیاسی سرگرمیاں محدود کر کے وکٹ کے دونوں جانب کھیلتے رہے اور اپنی چمڑی بھی بچائے رکھی اور دمڑی بھی… کرپشن، لوٹ مار اور فساد پھیلانے کے مختلف مقدمات میں ملوث سابق سپیکر قیصر جیسے بہت سے پی ٹی آئی رہنمائوں کے خلاف نیب انکوائریاں بھی جاری ہیں اور یہ بظاہر ’’نیک پروین گروپ‘‘ دیگر بہت سے کرپشن کیسز میں بھی تحقیقاتی اداروں کو مطلوب ہے ۔ اب کہا یہ جارہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر ’’گڈ طالبان بیڈ طالبان‘‘ والی تفریق ختم کی جا رہی ہے اور ’’گڈ طالبان‘‘ بن کر اسٹیبلشمنٹ کو چکر دینے والوں کی بانی پی ٹی آئی سے مستقل وفاداری اب چونکہ بے نقاب ہو گئی ہے ، اس لئے احتساب کی چھری چلنے کی راہ میں اب کوئی بڑی رکاوٹ حائل نہیں رہی ، کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اس ’’ نیک پروین گروپ‘‘ میں 55 کے قریب ارکان قومی و صوبائی اسمبلی شامل ہیں جن کی بڑی تعداد کا تعلق وسطی و جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا سے ہے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو ایک طویل عرصے تک دھوکے میں رکھنے والے ان شاطر ارکان اسمبلی کی اصل ہمدردی بانی پی ٹی آئی سے بھی نہیں، بلکہ ان کی دلچسپی کا مرکز و محور پی ٹی آئی ووٹ بنک اور اپنی کروڑوں اربوں روپے کی لوٹ مار ہے۔ اب جبکہ یہ نیک پروین گروپ احتساب کے عمل سے گزرنے جا رہا ہے تو میگا کرپشن اور آمدنی سے زائد ناجائز اثاثوں کی ایسی ایسی حیران کن کہانیاں سامنے آئیں گی کہ لوگوں کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آئے گا ۔
کہا یہ جا رہا ہے کہ سابق سپیکر بظاہر پی ٹی آئی کے اس اس نیک پروین گروپ کے ’’امام‘‘ ہیں جو اپنی ’’نیک چلنی‘‘ کی جھوٹی یقین دہانیاں کروا کے اب تک بچا ہوا تھا ، اس گروپ کیخلاف جاری نیب انکوائریوں میں بہت بڑی پیش رفت کی اطلاعات ہیں اور یہ لوگ کسی بھی وقت ’’احتساب کی چھری‘‘ کے نیچے آسکتے ہیں۔ 9 مئی کیسز اور کرپشن و لوٹ مار کے درجنوں مقدمات میں ملوث سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنی سیاست کا آغاز صوابی سے کیا، عمران خان کا سب سے قریبی ساتھی کہلانے والا یہ بظاہر دھیمے مزاج کا سیاستدان اپنی سیاست کے آغاز پر صرف ایک پرائیویٹ اسکول کا مالک تھا، لیکن پی ٹی آئی کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ظاہری اور چھپے ہوئے اثاثے بنا چکے ہیں ، ان حیران کن اثاثوں کی دلچسپ تفصیلات اب نیب کیسز میں سامنے آ رہی ہے۔
نیب کیسز سمیت کئی مقدمات میں ضمانتیں کروا کر اب اپنی انتشاری سیاست کی نئی اننگز کا آغاز کرنے والے کپتان کے اس کھلاڑی کا صوابی میں تاثر کچھ اچھا نہیں، مقامی لوگ ماضی کے اس اسکول ٹیچر کی انتقامی سیاست ، مبینہ قبضہ گروپ سرگرمیوں ، کرپشن اور لوٹ مار کی کئی سنسنی خیز کہانیاں سناتے نظر آئیں گے۔ قومی سطح پر ایک سنجیدہ اور بردبار سیاست دان کا مصنوعی تاثر بنانے والے اس سیاستدان کی بہت سے مقدمات میں ضمانت ایکسپائر بھی ہو چکی ہے اس لئے کسی بھی وقت دوبارہ گرفتاری بھی متوقع ہے، ان مقدمات کی تفصیلات بھی خاصی سنسنی خیز ہیں۔ ایک ایف آئی آر محکمہ ای ڈی این صوابی میں غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث ہونے پر ہے جس میں ان کی 14 مئی 2024 ء تک ضمانت تھی ۔ دوسری ایف آئی آر سپورٹس ڈیپارٹمنٹ ضلع صوابی میں اختر زمان کی غیر قانونی تعیناتی میں ملوث ہونے پر کٹی ، اس کیس میں بھی 14 مئی 2024 تک ضمانت پر رہائی ملی ہوئی ہے۔ تیسری ایف آئی آر گاجو خان میڈیکل یونیورسٹی کے میڈیکل آلات اور مشینری کی خریداری میں بدعنوانی میں ملوث ہونے کی وجہ سے درج کی گئی ،موصوف 9 مئی کو لوگوں کو تشدد اور جلا ئوگھیرا ئوکیلئے اکسانے میں ملوث ہونے کے حوالے سے درج کئی ایف آئی آرز میں بھی نامزد مرکزی ملزم ہیں اور ضمانت پر ہیں۔
نیب کی طرف سے بھی ان کے خلاف کئی ریفرنسز دائر ہیں جن میں مردان‘صوابی روڈ میں ٹھیکیداروں سے بھاری رقم وصول کرنے کا میگا کرپشن اسکینڈل بھی شامل ہے ‘ چند سال پہلے تک جس شخص کی کل کائنات ایک پرائیویٹ سکول کا مالک ہونا تھا، وہ آج ٹوپی روڈ صوابی پر آٹھ اعشاریہ سات کنال قیمتی زرعی زمین سمیت کروڑوں روپے مالیت کی درجنوں جائیدادیں بنائے ہوئے ہے ، صوابی کے قائد اعظم اسکول اینڈ کالج کی قیمتی بلڈنگ میں پچاس فیصد شیئرز کے ساتھ دو اعشاریہ آٹھ کنال کا قیمتی کمرشل پلاٹ بھی ان کی ملکیت ہے۔یہ کہا جا رہا ہے کہ ابتدائی نیب انکوائری میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی جائیدادوں کی کوئی منی ٹریل پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔ اسلام آباد میں بھی ایک قیمتی بنگلے کے ساتھ ساڑھے 9 کنال کا پلاٹ ان کی ملکیت ہے ، موضع مرغوز اکاخیل ضلع صوابی میں تین اور چھ مرلہ زمین ، موضع کڑی ضلع صوابی میں 06 اور 08 کنال زمین ، پنج پیر میں 06 اور 08 کنال زمین، مرغوز میں ایک وراثتی مکان، میلینیم ہائٹس اسلام آباد کے تھرڈ فلور پر فلیٹ نمبر 501 وہ جائیدادیں ہیں جو ابتدائی تحقیقات میں سامنے آ چکی ہیں۔
فرنٹ مینوں کے ذریعے کروڑوں روپے کی بے نامی جائیدادیں بنانے کے بھی الزامات ہیں جن کی حقیقت مزید تفتیش کے بعد ہی کھل کر سامنے آئے گی۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ وسطی و جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا کا یہ نیک پروین گروپ اپنی چمڑی و دمڑی بچانے کیلئے بانی پی ٹی آئی کے انتہا پسندانہ اور انتہائی غیر لچکدار بیانیہ سے بظاہر دوری اختیار کرکے یہ مشکل وقت گزارنے کا نیا ڈرامہ بھی کر سکتا ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ اس بار نئی بوتل میں پرانی شراب بیچنے کی کوشش کرنے والوں کے چکر میں آتی نظر نہیں آئے گی کیونکہ پی ٹی آئی کے اندر ’’گڈ طالبان بیڈ طالبان‘‘ والی تفریق اب ختم کرکے سب کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں