Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سیاسی بدتہذیبی کے فروغ کا ذمہ دار کون ہے؟

جمہوریت میں جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا کسی ملک کی عوام کی ذہن سازی کرنے کا بدترین سیاسی ہتھیار ہے۔ عوام الناس کے اجتماعی دماغ سے کھیلنا اس سے بھی بڑا گھناونا اور مکروہ سیاسی کھیل ہے جس کے ذریعے عوام میں کچھ ایسی غلط اور بے بنیاد افواہیں پھیلائی جاتی ہیں کہ جن کی بنیاد پر ایک طرف کا سیاست دان جھوٹا، مکار اور بدکردار اور دوسری طرف کا دھوکہ باز سیاستدان بھی عوام کو فرشتہ سیرت سیاسی رہنما نظر آنے لگتا ہے۔
ضیاء الحق کے بعد1988ء میں بحالی جمہوریت کے دوران مخالف سیاسی رہنماں کی کردار کشی کے لیئے الیکشن مہم میں پہلی بار یہ خطرناک سیاسی ہتھیار میاں محمد نواز شریف نے بے نظیر بھٹو کے خلاف استعمال کیا تھا جب انہوں نے بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ نصرت بھٹو کی جعلی برہنہ تصاویر تیار کروا کر سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے عوام پر پھینکوائی تھیں۔ جب یہاں بھی تسلی نہیں ہوئی تھی تو بے نظیر بھٹو کی شان میں ایک نعرہ مستانہ بلند کروایا تھا، جس کا پہلا مصرعہ ’’کوکا کولا پیپسی‘‘تھا۔ دیوانگی پر مبنی اس نعرہ کا اگلا مصرعہ ایسا ہے کہ تقدیس قلم کی وجہ سے یہاں دہرانا مناسب نہیں ہے۔ ایسی غلیظ سیاست کو مسلم لیگ نون کے ایما پر اور قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے بام عروج تک پہنچایا جب انہوں نے سارے جمہوری اور اخلاقی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس غیر پارلیمانی زبان کو زبان زد عام کیا۔ ایک طرف جمہوری سیاستدان سیاست کو خدمت سے تعبیر کرتے ہیں دوسری طرف وہ اسی کے ذریعے اپنے مخالف کی کردار کشی کرتے ہوئے جسم فروش عورت تک کا خطاب دینے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کرتے ہیں۔
ایسی بدنما اور گندی سیاست کے منفی اثرات کا ایک ہلاکت خیز نتیجہ جہاں یکے بعد دیگرے سازش اور گٹھ جوڑ کے ذریعے ایک دوسرے کی حکومتوں کو گرائے جانے کی شکل میں نکلتا رہا وہاں عوام کی اخلاقی اقدار کا معیار بھی گرتا چلا گیا۔ تب سے عام انتخابات کے بعد آج تک ہماری کوئی بھی جمہوری حکومت اپنی معینہ 5سالہ مدت کی حکومت کرنے کا خواب پورا نہیں کر سکی ہے اور نہ ہی عوام کے اخلاق و کردار میں کوئی بہتری آئی ہے۔ اس عرصہ میں صرف پیپلزپارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری نے اپنی پہلی مدت میں 2008 ء سے 2013 ء تک صدارت کا عرصہ ضرور پورا کیا۔ وہ اس وقت تک پاکستان کی 66سالہ سیاسی تاریخ میں پہلے منتخب صدر تھے جنہوں نے اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد ایک اور جمہوری طریقے سے منتخب صدر کو یہ عہدہ سونپا۔ اس کے علاوہ سیاسی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ماڈل ٹائون میں جا کر ان سے بھی ہاتھ ملا لیا تھا جن کی والدہ کو نون لیگ کے جیالے سیاست دانوں نے پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہو کر ایسے شرمناک الفاظ سے منسوب کیا تھا۔ ایسی گھٹیا اور نچلے درجے کی سیاست جمہوری گندگی کا ڈھیر نہیں تو اور کیا ہے؟ لیکن ہمارے جمہوریت پسند بزرجھمروں کا کمال ہے کہ وہ آج بھی جمہوری و سیاسی نظام حکومت ہی کو ملک کی نجات کا ذریعہ ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے آ رہے ہیں۔ یہ ایسی انتہائی شرمناک روایت ہے کہ 1988 ء کے بعد آج 36برس گزر جانے کے باوجود ہمارے ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں نون لیگ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف اس پر قائم نظر آتی ہیں۔
یا تو ہمارے یہ سیاسی لیڈران جمہوری روایات اور اقدار پر کاربند رہتے اور ملک میں جمہوری اصولوں پر مشتمل شائستہ سیاست کو پنپنے دیتے اور یا پھر وہ جمہوریت کے مدمقابل کوئی متبادل نظام حکومت لے آتے تاکہ ملک میں یہ سیاسی لچر پن استوار نہ ہو سکتا اور نہ ہماری عوام الناس کی اخلاقیات پر اس کے منفی اثرات پڑتے۔ لیکن اب یہ آفت آن پڑی ہے کہ ہر سیاسی پارٹی کا ایک میڈیا سیل ہے جس کا کام ہی سوشل میڈیا پر بیٹھ کر کردار کشی اور ایک دوسرے کو انتہائی غلیظ اور شرمناک گالیاں بکنا ہے۔
چند دنوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا، ٹویٹر اور خاص طور پر ’’ٹک ٹاک‘‘پر لائیو بیٹھ کر چند ملک دشمن افراد فوج کو بہت برے طریقے سے بدنام کر رہے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ ٹک ٹاکرز آرمی چیف کو نام لے لے کر اس قدر انتہائی گھٹیا اور بے ہودہ گالیاں دیتے ہیں کہ الحفیظ و الامان، اور ساتھ میں وہ خود کو محب وطن بھی ظاہر کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے مثبت پہلو اپنی جگہ، مگر ہمارے ہاں اس نے سیاسی کشیدگی اور یاوہ گوئی ہی کو فروغ دیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے پیجز سے باقاعدہ منافرت پر مبنی مواد شئیر کیا جاتا ہے، تو کئی ایک سیاست دانوں کے ذاتی اکاونٹس بھی معاشرتی و اخلاقی اقدار کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔ ان اکائونٹس پر مخالفین سے متعلق اِس قدر بازاری زبان استعمال ہوتی ہے کہ یقین ہی نہیں آتا کہ یہ سیاسی منفیت ہی ہماری قومی پہچان کیوں بنتی جا رہی ہے۔
اسی پس منظر میں حکومت نے کثیر بجٹ خرچ کر کے ’’فائر وال‘‘کا بھی انتظام کیا مگر وہ بھی بے سود رہا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں وقفے وقفے سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پابندی لگا دی جاتی ہے جس وجہ سے پاکستان کے کاروباری اور سماجی روابط میں بھی خلا پیدا ہوتا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز ایک جرمن خاتون سے ناشتے پر ملاقات تھی تو انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان میں ایک طرف سوشل میڈیا پر پابندی ہے دوسری طرف ٹک ٹاک پر گالم گلوچ کا بازار گرم ہے تو اس ماحول میں پاکستان میں کوئی تہذیب یافتہ غیر ملکی ادارہ سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ پاکستان کا یہ چہرہ ہماری ملکی ساکھ کو دنیا بھر میں بری طرح بدنام ہی نہیں کر رہا بلکہ خود ہماری نوجوان نسل کو اخلاقی اقدار سے بھی محروم کر رہا ہے۔ اس ماحول میں ہماری نوجوان نسل یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ ہمارے سیاست دانوں میں رائج یہ گالی گلوچ کا کلچر ہی ہمارے ملک کی اصل تہذیب ہے حالانکہ یہ سراسر سیاسی بدتہزیبی یے جو اپنے پھیلاو’ میں محض ہمارے جدید سیاست دانوں کی مرہون منت ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں