(گزشتہ سے پیوستہ)
بلوچستان کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے خلاف پراکسی وار کے سافٹ فیس مہ رنگ بلوچ کے ’’جادو‘‘کا پکا ’’قرآنی علاج‘‘بھی جوابی سیلاب برپا کرنا ہی ہے کیونکہ محض بندھ باندھنا کوئی مستقل اور پائیدار حل نہیں۔ جب ہم نے اپنے چینی، ایرانی اور عرب دوستوں کو جوابی سیلاب والے اس قرآنی علاج پر قائل کرلیا تو بی ایل اے ، بی ایل ایف اور بی وائی سی والے ایک ہی جھٹکے میں اتنے کمزور ہو جائیں گے کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ قرآنی علاج شروع ہو گیا تو بلوچ یکجہتی کمیٹی کا سارا پروپیگنڈہ پھر سورج کو چراغ دکھانے والی بات بن کر رہ جائے گا کیونکہ سماجی شعور و آگاہی کی ایکٹیویٹی اور سوشل میڈیا وارفیئر کا سرچشمہ گراس روٹ لیول پر پیدا کرنے کے لئے ڈالروں کی ’’ٹارگیٹڈ جوابی بارش‘‘برپا کرنے کے لئے چین، ایران اور عرب دوستوں کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں، بلوچستان کا نوحہ لکھتے ہوئے احمد منصور رقم طراز ہیں کہ بلوچ قوم جتنی محبت کرنے والی، جتنی مہمان نواز، جتنی محنت کش، جتنی مظلوم، جتنی غیرت مند اور جتنی وفادار ہے اسے بار بار اتنے ہی بے وفا، ہڈ حرام اور ظالم و جابر قسم کے لیڈروں سے واسطہ پڑتا رہا ہے، عظیم بلوچستان کے عظیم عوام پہلے صدیوں تک ہڈ حرام اور ظالم و جابر قسم کے سرداروں اور نوابوں کے چنگل میں پھنسے رہے جو خود تو کوئی کام نہیں کرتے تھے لیکن اپنے قبیلے کے عوام کی محنت کی کمائی اور اپنے علاقے کی معدنیات و چراگاہوں کی دولت لوٹ کر نسل در نسل اندرون و بیرون ملک انتہائی پرتعیش زندگی بسر کرتے رہے۔
قیام پاکستان کے بعد جب سے بلوچستان بھیڑیئے جیسے خونخوار عالمی استعمار اور لومڑی جیسے مکار ہمسایہ ملک ہندوستان کی مشترکہ سازشوں کا نشانہ بنا ہے بلوچستان اور اس کے عوام کا استحصال کرنے والا طبقہ بھی بدل گیا ہے، اب سرداروں اور نوابوں کی جگہ بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسی عسکریت پسند تنظیموں کے بھیڑیئے جیسے خونخوار دہشت گرد کمانڈروں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مکار لومڑی جیسی قیادت نے لے لی ہے، یہ نیا استحصالی طبقہ بھی سرداروں کی طرح ظالم و جابر اور ہڈحرام تو ہے ہی، ساتھ میں انسانی خون کا پیاسا اور انتہائی وحشی و سفاک بھی ہے۔ انسانی خون، انسانی گوشت اور لاشوں کی تجارت کے ذریعے اس نئے استحصالی طبقے نے بلوچستان کی جنت نظیر وادیوں ، پہاڑوں ، دریائوں ، صحرائوں اور سرسبز چراگاہوں کو جہنم اور دوزخ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس نئی نام نہاد لیڈر شپ کے کرتوت دیکھ کر بلوچستان کے لوگوں کو اب وہ پرانے سردار اچھے لگنے لگ گئے ہیں جو عوام کے معاشی استحصال تک محدود تھے اور بم بارود و دہشت گردی کی فصل کاشت کرکے بلوچ نوجوانوں کو خودکش بمبار نہیں بنایا کرتے تھا، انہیں فراری کیمپوں میں نہیں دھکیلا کرتے تھے، دہشت گردی کے ٹریننگ سینٹرز میں نہیں بھجوایا کرتے تھے، دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں سے ڈالر لے کر انہیں ’’را‘‘ ، ’’خاد‘‘ اور این ڈی ایس کو نہیں بیچا کرتے تھے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ چین کے سی پیک پراجیکٹ کی وجہ سے خوشی اور خوشحالی بلوچستان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے، عظیم دوست ممالک چین ، ایران، سعودی عرب، کویت، عراق، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور اومان سی پیک کے ذریعے آپس میں کھربوں ڈالر سالانہ کی تجارت کرنا چاہتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ ممالک چین کی مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لئے بلوچستان میں بندرگاہوں، ریلوے لائنوں، پائپ لائنوں، شاہراہوں، مینوفیکچرنگ انڈسٹریز، بڑی صنعتوں اور آئل ریفائنریوں کا جال بچھانا چاہتے ہیں، تاکہ ان کی پروڈکشن کاسٹ کم ہو، سی پیک سے جڑی یہ تیز رفتار معاشی سرگرمیاں بلوچستان کو تیزی سے انڈسٹریل ایج میں داخل کر دیں گی اور وہ ایک بڑا جمپ مار کر پسماندہ خطے سے براہ راست صنعتی دور میں داخل ہو جائے گا، اور یہاں روزگار کے اتنے مواقع پیدا ہو جائیں گے کہ افرادی قوت اور پڑھے لکھے ہنرمندوں کی قلت پیدا ہو جائے گی، اور ایک محتاط اندازے کے مطابق سی پیک اور اس سے جڑی صنعتی و تجارتی سرگرمیاں شروع ہونے کے بعد پہلے 25برسوں میں بنگلہ دیش ، انڈونیشیا اور افریقہ سے کم و بیش 50 لاکھ لوگ مستقل روزگار کی تلاش میں بلوچستان کا سفر کریں گے اور بلوچستان بحیرہ عرب کا خوشحال ترین خطہ بن جائے گا اور دوسرا منظر نامہ یہ ہے کہ اگلے 25 برس بھی ہم اسی کشمکش میں گزار دیں جس میں پچھلے 25 بلکہ 75 برس گزر گئے ہیں، اس دہشت گردی کے ناسور سے اگر بلوچستان نجات نہیں پاتا تو اگلے 25برس بھی بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے عسکریت پسند گروپوں کے بھیڑیئے جیسے خونخوار دہشت گرد لیڈر اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لومڑی جیسی مکار و عیار قیادت کے ہاتھوں ہم یرغمال بنے رہیں گے۔
بم بارود و دہشت گردی کی فصل کاشت کرکے بلوچ نوجوانوں کو خودکش بمبار بنانے کا سلسلہ بھی پچھلے 25 برسوں کی طرح اگلے 25 برس بھی جاری رہے گا، بلوچ بچوں اور نوجوانوں کو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھجوانے کی بجائے فراری کیمپوں میں دھکیلنے کا سلسلہ جاری رہے گا، دہشت گردی کے ٹریننگ سینٹرز کے دوزخ و جہنم کی آگ کا ایندھن بنایا جاتا رہے گا اور دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں سے ڈالر لے کر انہیں ’’را‘‘ ، ’’خاد‘‘ اور این ڈی ایس کو بیچنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔
(جاری ہے)