Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سی پیک، مہ رنگ جادو اور قرآنی علاج

(گزشتہ سے پیوستہ)
اب فیصلہ بلوچ عوام نے خود کرنا ہے کہ سی پیک اور تیز رفتار معاشی سرگرمیوں کے ذریعے انہوں نے اپنی جنت جیسی سرزمین عظیم بلوچستان کو خوشی و مسرت اور ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنانا ہے یا بی ایل اے، بی ایل ایف اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ہاتھوں میں کھیل کر اپنے پیاروں کے بے وقت بچھڑنے کے دکھ، غم، کرب اور مصیبتوں کے ساتھ ساتھ غربت اور بیروزگاری کی دلدل میں دھنسے رہنا ہے۔اپنے بچوں پر خصوصی نظر رکھیں کہ کہیں وہ ڈالروں کے بدلے میں جسموں اور انسانی گوشت کی تجارت کرنے والوں کے مقامی سہولت کاروں اور ایجنٹوں کے ساتھ اٹھ بیٹھ تو نہیں رہے، مثل مشہور ہے کہ ’’گربہ کشتن روزِ اول‘‘۔
بلوچ والدین کو اس حوالے سے تھوڑا بہت شک بھی پیدا ہو تو وہ اپنے بچوں کو پیار سے سمجھائیں، اور اگر دیکھیں کہ بچہ کچھ زیادہ ہی ان مکاروں و خرکاروں کے ذہنی حصار میں چلا گیا ہے تو انسانی جسموں کی تجارت کرنے والے ان ایجنٹوں کی چپکے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خفیہ نشاندہی کرکے اپنے بچوں کو دہشت گردی کے جہنم کا ایندھن بننے سے پہلے پہلے بچا لیں، جب آپ کے علاقے کے یہ ایجنٹ و سہولت کار خود بے نقاب ہو جائیں گے تو وہ نوعمر ذہنوں کو ورغلانے کے کالے دھندے سے خود ہی باز رہیں گے۔ یہ بزدل اور مکار لوگ دوسروں کے بچوں کو ہی جانیں قربان کرنے کا درس دیتے ہیں جب اپنی جان پر بنتی نظر آئے تو وطن یا نسل کے لئے قربانی دینے کا یہ سارا پرچار انہیں بھول جاتا ہے۔بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں نے جب یہ دیکھا کہ سادہ لوح بلوچ عوام میں اپنے نوجوانوں کی دہشت گرد سرگرمیوں کے لئے بھرتی کے حوالے سے شعور رفتہ رفتہ پھیلنا شروع ہو گیا ہے تو انہوں نے ایک نئی گیم ڈالی، جس طرح مچھیرے اپنے مچھلی کے شکار کے لئے کانٹے پر چارہ لگاتے ہیں، دہشت گردوں اور ان کے ملکی و غیر ملکی آقائوں نے ماہ رنگ بلوچ کی سرکردگی میں ایک نئی تنظیم بلوچ یکجہتی کمیٹی کے نام سے لانچ کر دی اور نئی بھرتی کے مکروہ دھندے میں خود ایک قدم پیچھے ہٹ کر ماہ رنگ بلوچ کو آگے کر دیا، اس نئی گیم کا نتیجہ یہ نکلا کہ دہشت گردی کے لئے بھرتی کے عمل سے مردوں کو الگ کر دیا گیا اور بھولی بھالی عورتوں اور معصوم بچوں پر اپنے شکار کا جال ڈال کر انتہائی خاموشی سے یہ خوفناک واردات تھوڑا کھیل بدل کر شروع کر دی گئی اور یہ راز اس وقت کھلا کہ جب عوامی ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر بلوچ یکجہتی کمیٹی سماج کے کئی طبقات میں نقب لگا چکی تھی کیونکہ عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے اس نے لاپتہ افراد کا ایشو ’’استعمال‘‘کرتے ہوئے کمال کی جذباتی اداکاری کی۔مہ رنگ بلوچ اگر واقعی بے گناہ لوگوں کے اغوا اور قتل عام کی مخالف ہوتی تو بی ایل اے اور بی ایل ایف کی طرف سے شعبان سیاحوں کے اغوا، ایران آنے جانے والے زائرین کی بسوں پر حملوں، دکی میں کان کنوں کے قتل عام، سربندر،گوادر میں مزدوروں کے اجتماعی قتل کے لرزہ خیز واقعات کی بھی مذمت کرتیں، ان دہشت گرد واقعات کیخلاف بھی احتجاجی دھرنے دیتیں اور احتجاجی ریلیوں کا اہتمام کرتیں، لیکن یہ ممکن نہیں کیونکہ اپنے آقائوں کی مذمت کون کر سکتا ہے۔
ایران آنے جانے والی بس کے مسافر اور گوادر کے مزدور کی بھی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہوتی ہے، ان بے قصور اور معصوم لوگوں کے خون کی ہولی کھیلنے والے بھی غیر انسانی سوچ رکھنے والے سفاک اور ظالم ہیں، لیکن مہ رنگ بلوچ ان کی مذمت نہیں کرتیں، کر بھی نہیں سکتیں کیونکہ جو آپ کو ڈالر دیتے ہیں وہ پھر آپ کو کٹھ پتلی کی طرح نچاتے بھی ہیں، اور سرکس کے شیر یا بندریا کی طرح آپ کو صرف اسی ناچ کی اجازت ہوتی ہے جس کا ’’رنگ ماسٹر‘‘اشارہ کرتا ہے۔ آپ اپنی مرضی سے کوئی کرتب نہیں دکھا سکتے۔بلوچ یکجہتی کمیٹی اور مہ رنگ بلوچ بظاہر بے گناہ اور مظلوم لوگوں کی آواز بن کر سرگرم ہیں لیکن حقیقت میں انہوں نے مظلوم اور بے گناہ لوگوں کی اصل آواز کو اپنے منفی پرو1پیگنڈے کے شور کے ذریعے دبا دیا ہے۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے دہشت گردوں کا دیا ہوا ایک جھوٹا بیانیہ آگے بڑھا کر انہوں نے عام بلوچ متاثرین کی یہ اصل شکایت دبا دی ہے کہ ان کے بچوں کو دہشت گردی کی آگ کا ایندھن بنانے کے لئے فراری کیمپوں اور خود کش بمبار ٹریننگ مراکز میں بھیجا جا رہا ہے۔ اس ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے اور اس کے لئے قانون فطرت اور قرآنی علاج ہی واحد حل ہے، جب تک قصہ زمین برسرزمین طے کرنے کا اسلوب نہیں اپنایا جائے گا سی پیک کا خواب بھی ادھورا ہی رہے گا اور بلوچستان ، پاکستان اور پورے خطے کی ترقی و خوشحالی کی منزل بھی دور ہی رہے گی، قرآنی علاج کی ایک اور مثال فرعون کے دربار میں مصری جادوگروں کا حضرت موسی علیہ السلام سے مقابلے کا واقعہ ہے، جب جادوگروں نے رسیاں پھینکیں اور وہ سانپ بن کر حملہ آور ہوگئیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام تھوڑا گھبرائے، اس پر اللہ رب العزت نے آپ کی فوری ڈھارس بندھائی اور اپنا عصا زمین پر پھینکنے کا حکم دیا جس نے اژدھا بن کر تمام سانپوں کو نگل لیا، اس واقعے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جس قسم کا حملہ ہوا اسی قسم کا زیادہ بڑا جوابی حملہ کیا گیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام سیلاب کے سامنے بندھ باندھنے والے فارمولے کے تحت اپنی لاٹھی سے جادوگروں کے پیدا کئے ہوئے سانپوں کو مارنے کا راستہ بھی اختیار کر سکتے تھے لیکن اللہ رب العزت نے ’’جوابی سیلاب‘‘ برپا کرنے والا آپشن اختیار کرنے کا حکم دیا۔
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

یہ بھی پڑھیں