Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

عمران خان، روم کے نیرو کا نیا جنم؟

تخت اسلام آباد پر دھاوا بولنے کے لئے پی ٹی آئی کی 24نومبر کی مہم جوئی کی حقیقت اور افسانہ؟ کے عنوان سے ملک کے معروف انگریزی اخبار ’’ڈیلی ٹائمز‘‘ کی جہاندیدہ خاتون میگزین ایڈیٹر در اکرم نے ایک طویل تحقیقی مقالہ لکھا ہے جسے اخبار نے ’’انویسٹی گیٹو اسٹوری آف دی منتھ‘‘کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ 24 سے 26 نومبر کے درمیان آسلام آباد میں جو کچھ ہوا اس کی تلخ یادیں شائد کبھی بھی بھلائی نہ جا سکیں لیکن اس معاملے کا عجیب پہلو یہ ہے کہ آپ جس فریق کی گفتگو اور دلائل توجہ سے سن لیں آپ کو وہی سچا لگنے لگ جاتا ہے، اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ یاد آ گیا کہ ایک گائوں کے بڑے چوہدری صاحب کے پاس ایک فریق مقدمہ اپنی کہانی سنانے آیا اور ان کی باتیں سن کر چوہدری صاحب نے کہا کہ بات تو آپ لوگوں کی ٹھیک ہے، پہلے فریق کے چلے جانے کے کچھ دیر بعد دوسرا فریق آیا اور اس نے اپنا موقف بیان کرنا شروع کر دیا، کیس کو اس دوسرے اینگل سے دیکھنے کے بعد چوہدری صاحب نے انہیں بھی یہی بات کہی کہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے، جب دوسرا فریق بھی واپس چلا گیا تو چوہدری صاحب کے ذاتی خدمت گار رحمے سے نہ رہا گیا اور وہ کہنے لگا کہ چوہدری صاحب!آپ نے پہلے فریق سے کہا بات تو آپ لوگوں کی ٹھیک ہیں اور پھر دوسرے فریق سے بھی یہی کہہ دیا کہ بات تو آپ لوگوں کی ٹھیک ہے، ایک ہی کیس میں دونوں فریقوں کی بات کیسے ٹھیک ہو سکتی ہے؟ ان میں سے کوئی ایک ہی سچا ہو گا۔ اپنے ذاتی ملازم رحمے کا یہ نکتہ اعتراض سن نے چوہدری صاحب نے اپنا سر کھجاتے ہوئے جواب دیا، بات تو تیری بھی ٹھیک ہے، رحمی! ’’24نومبر کی حقیقت اور افسانہ‘‘کے عنوان سے انتہائی تفصیلی خصوصی رپورٹ میں پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کی انتشار پسندی کی سیاست، جھوٹے من گھڑت بیانیئے اور سوشل میڈیا کی طاقت کے ذریعے افراتفری اور غیر یقینی پھیلا کر ریاست کو بلیک میل کرنے کی کریمینل پولیٹیکل اسٹریٹجی کا پردہ چاک کرنے کا جو دعویٰ دراکرم نے کیا ہے اس میں پیش کئے گئے نکات کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
خاتون ایڈیٹر کا کہنا ہے کہ دوبارہ برسر اقتدار آنے کے لئے بانی پی ٹی آئی ملکی معیشت ، 25 کروڑ عوام حتیٰ کہ پوری ریاست کی بقا ء کو ہی دائو پر لگانے پر تلے ہوئے ہیں اور اس پولیٹیکل ٹیررازم کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اچھی بھلی سنبھلتی ہوئی معیشت ایک بار پھر تباہی و بربادی کی دلدل میں دھنسنے کے خدشے سے دوچار ہے اور ریاست کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ایک انتشاری گروہ کو ملکی معیشت کو مکمل طور پر نذر آتش کرنے کی آزادی دیئے رکھنا ہے یا پھر ریاست اور معیشت کو بچانے کے لئے وہ سخت ترین اقدامات کرنا ہیں کہ جو اب ناگزیر ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی معروف تحقیق کار اور لکھاری دراکرم کی اس اسپیشل رپورٹ میں مزید نشان دہی کی گئی ہے کہ ملکی معیشت کی بربادی کے اس انتہائی تشویشناک عمل کو نیرو کی بادشاہت کی تاریخ جیسے متنازع اور ملے جلے جذبات کے ساتھ یاد کیا جا سکتا ہے۔ نیرو ایک پیچیدہ شخصیت تھی، جس کے دور حکومت میں کچھ کامیابیاں بھی تھیں لیکن اسے زیادہ تر ظلم، بدانتظامی، اور خودغرضی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی سیاست کو نیرو کی سوچ کا نیا جنم قرار دینے کا اشارہ دیتے ہوئے در اکرم لکھتی ہیں کہ نیرو کو رومی تاریخ کے بدترین حکمرانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ روم بھلے ہی ایک دن میں تعمیر نہ ہوا ہو، لیکن نیرو کے گمراہ کن سوچ اور پھیلائی ہوئی افراتفری کے تحت جب اسے جہنم بنایا گیا، تو پھر اس کی مکمل تباہی کو روکنا ممکن نہ رہا۔ گویا جس جنت کی تعمیرکاری میں صدیاں لگ جاتی ہیں، اسے تباہ و برباد کر کے جہنم بنانے کے لئے چند ماہ یا چند برس کی تخریب کاری ہی کافی ہوتی ہے پاکستان تحریکِ انصاف کے اسلام آباد مارچ کو تقریباً ایک مہینہ گزر چکا ہے، جس کا مقصدحکومت پر دبا ڈالنا، اپنے موقف کو تقویت دینا تھا۔ تاہم، اس مہم جوئی کا ہر گزرتا دن ایک اور واضح حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ جو لوگ اپنی طاقت دکھانے کے لیے میدان میں نکلے، وہ یا تو اپنے سیاسی خوابوں میں اتنے غرق ہو گئے تھے کہ ملک کی حساس صورتحال کو نظرانداز کر گئے، جو کہ افسوس ناک طور پر تباہی کے قریب تھی، یا وہ اس کو جان بوجھ کر مزید تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتے تھے؛ جیسا کہ نیرو نے سوچا تھا۔ گویا ان کی مرضی کے مطابق ایک نیا پاکستان اس راکھ سے جنم لے گا جو اس ملک کو آگ لگانے کے بعد باقی بچے گی۔
24 نومبر کو ملک کے دارالحکومت اور اس کے نظامِ زندگی کو حقیقتاً الٹ دیا گیا، اس سارے عمل کی انتہائی باریک بینی سے کی گئی تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ اس مہم جوئی کی وجہ سے جمہوریت ایک ایسے حملے سے دوچار ہوئی جس کی تباہ کاریوں کی کوئی حد نہیں۔ اسلام آباد کی سڑکیں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی)کی جانب سے شروع کیے گئے پرتشدد احتجاج کی بدولت بدامنی اور مایوسی کا شکار ہو گئیں۔ یہ انکار نہیں کیا جا سکتا کہ احتجاج اور عوامی مظاہروں کو ہمیشہ سیاسی چالاکیوں کے لیے ایک اوزار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے ذریعے جب عمران خان کو اقتدار سے الگ کیا گیا، تو بانی پی ٹی آئی نے اس جمہوری شکست کو تسلیم کرنے کی بجائے فسطائیت کا راستہ اپنا لیا اور عوام کی طرف رخ کر لیا، ایک خالی کاغذ کا ٹکڑا لہراتے ہوئے، عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہوئے، ایک ایسی حکمت عملی اختیار کر لی جو ہنستے بستے گھر اور ملک اجاڑ دیتی ہے اور پھر ایسا ہی ہوا، نومبر 2024 ء کا سانحہ اسی حکمت عملی کے تسلسل کے طور پر ایک انتہائی شکل میں سامنے آیا، جس میں قیادت نے اپنے آپ کو جرات مندانہ طور پر اپنے جمہوری حق کے استعمال کا حامی ظاہر کیا، جو کہ بظاہر آئین کے مطابق تھا لیکن دراصل یہ ایک پوری طرح سوچ سمجھ کر کی جانے والی ’’چڑھائی‘‘تھی جسے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا سومنات پر 17حملوں والی اسٹریٹجی سے تشبیہہ دے رہے تھے۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں