Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

عمران خان، روم کے نیرو کا نیا جنم؟

(گذشتہ سے پیوستہ)
کہتے ہیں کہ روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا، عمران خان کو نیرو کا نیا جنم قرار دے کر در اکرم نے بڑی دلچسپ پھبتی کسی ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ 24 سے 26 مئی کے دوران ملک کی عالمی ساکھ کو تباہ کرتے ہوئے دارالحکومت میں بدامنی کو ایک طے شدہ منصوبے کے تحت جان بوجھ کر پھیلایا گیا، اس پولیٹیکل ٹیررازم کے دوران ڈیجیٹل دہشت گردی ایک آلہ کار کے طور پر استعمال ہوئی، اور اس سے عمل کی اصل منزل معاشی دہشت گردی تھی کہ جس کے ذریعے ریاست و حکومت کو بلیک میل کرنا مقصود تھا۔
سوشل میڈیا کو بڑے ’’طریقے اور سلیقے‘‘ سے ایک بار پھر حکومت اور ریاست کو نقصان پہنچانے کے لیے خودکش ڈرون حملے کے انداز میں استعمال کیا گیا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ واقعات اچانک شدت اختیار کر گئے اور ایک افسوسناک واقعے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مظاہرین کے ساتھ تصادم کی صورت میں آمنے سامنے آگئے، لیکن ان کارروائیوں پر ایک سطحی نظر ڈالنا، خاص طور پر جب مظاہرین اپنے خفیہ گیم پلان کے آخری مرحلے میں داخل ہو رہے تھے یعنی ریڈ زون میں پہنچ رہے تھے، اور حساس حکومتی و ریاستی عمارتوں پر حملہ کرنے پر تلے دکھائی دیتے تھے، اور ساتھ ہی سکیورٹی کے نظام کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے، یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ان کا اصل مقصد کیا تھا؟ بشری بی بی جیسے افراد جو کسی بھی معقول آواز کو سننے کے لیے تیار نہیں تھے، مشتعل مظاہرین کے ساتھ دھاوا بول چکے تھے جنہیں ایک پوری منصوبہ بندی کے ذریعے بھڑکایا گیا تھا۔ تصادم کا یہ ماحول پیدا کرنے کے بعد بیرسٹر گوہر علی خان جیسی پی ٹی آئی کی ساری مکار قیادت ڈی چوک سے اچانک غائب ہو گئی تھی اور بڑے طریقے سے برین واش کر کے لائے گئے مشتعل مظاہرین کو اس حساس ایریا ریڈ زون میں شتر بے مہار کی طرح کھلا چھوڑ دیا گیا۔ اگر سوشل میڈیا ایپلی کیشنز اور یوٹیوب وی لاگز پر اس منصوبہ بندی کے دوران جو کچھ ہوا وہ ناپسندیدہ تھا، تو اس کے بعد کے واقعات بلاشبہ، بہتر الفاظ میں کہا جائے تو کھلم کھلا ریاست مخالف تھے۔
موجودہ صورتحال اتنی پیچیدہ ہو چکی ہے کہ ملک سے باہر بیٹھا ہر ڈیجیٹل دہشت گرد چاہتا ہے کہ وہ ایک جذباتی ٹویٹ لکھے، اس میں کچھ دل کو چھو لینے والے تفصیلات شامل کرے اور اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دے تاکہ ایک ہی رات میں اس کی پوسٹ وائرل ہو جائے۔ اگر آپ کسی طرح ملک چھوڑ کر اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے ہیں تو یہ آپ کے لیے ہزار گنا آسان ہو جاتا ہے کہ آپ کسی بھی انتقامی مقصد کو بڑھاوا دیں جو آپ کے پیٹ یا جیب کو بھرنے کے کام آئے۔ مثلا حماد اظہر جیسے صارفین نے نوجوانوں کو ریاست، اپنی مادرِ وطن کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دی، اور اس کو ایک اعلی و ارفع کام بنا کر پیش کیا۔ اس نام نہاد مقدس جنگ میں وہ خود کہاں تھے؟ عملی طور پر شاید کہیں بھی نہیں۔
اس پروپیگنڈہ وار کے اگلے مرحلے میں پہلے سے طے شدہ گھنانے منصوبہ کے تحت پھر احتجاج کے دوران جاں بحق اور لاپتہ افراد سے متعلق متضاد دعوے شروع کر دیئے گئے۔ جو کچھ بھی ڈی چوک میں ہوا اس کے بارے میں پی ٹی آئی کے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے بیانات نے پروپیگنڈے کے لفظ کو ایک نئی تعریف دی۔ واقعات کی اصل تفصیل ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ پولیس کے آنسو گیس کے گولوں سے بچنے کی کوششوں کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان کی تعداد کے بارے میں ابہام پھیلایا گیا، کہ یہ ایک چھوٹی سی فہرست نہیں بلکہ ایک طویل سلسلہ ہے ۔ پی ٹی آئی کا اگر ایک رہنما چار ہلاکتوں پر افسوس کرتا پایا گیا تو دوسرا ان کی تعداد بڑھا کر پندرہ بتاتا رہا۔ ایک نے 24 کا رونا رویا، جبکہ ایک جذباتی پریس کانفرنس میں 36 ہلاکتوں کا ذکر کیا گیا۔ فہرست بڑھاتے چلے جانے کی یہ سوچ اتنی جلدی مقبول ہوئی کہ جلد ہی یہ کہا جانے لگا کہ پولیس اور دیگر فورسز کی فائرنگ سے 300 افراد ہلاک ہوگئے۔
سینکڑوں مظاہرین کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے بھی شور مچایا گیا، مگر ان کے بارے میں کوئی قابل اعتماد معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اپنے جھوٹے دعووں اور من گھڑت موقف کو ثابت کرنے کے لیے جعلی تصاویر اور ایڈیٹ کی گئی ڈاکٹرڈ ویڈیوز اپ لوڈ کی گئیں، کچھ آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے کام لیا گیا تو کچھ تصاویر اور ویڈیوز غزہ میں جاری قتل عام والی استعمال کر کے سادہ لوح جذباتی عوام کو خوب بھڑکایا گیا۔ مقامی میڈیا ذرائع کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تھنک ٹینکس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ تصاویر جو جناح ایونیو کو خون سے ڈوبا ہوا دکھاتی تھیں، اور جنہیں ہلاکتوں کی بڑی تعداد کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، دراصل مصنوعی ذہانت(آرٹیفیشل انٹیلی جنس)کے ذریعے تخلیق کی گئی تھیں۔ اس تصویر میں خود کئی ایسے اشارے موجود تھے جو تجزیہ کاروں کو اصل حقیقت سمجھنے میں مدد دے سکتے تھے۔ کسی بھی جعلی ویڈیو یا تصویر کو حقیقت بنا کر پیش کرنے کیلئے بس اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ کوئی مشہور شخصیت مثال کے طور پر عمران ریاض خان اسے ری ٹویٹ کر دے، کسی سلیبرٹی کے ری ٹویٹ کرتے ہی فورا لاکھوں لوگ وہ ناقابلِ یقین باتیں ماننے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ایک اور افسوسناک مثال میں، چند یوٹیوبرز نے ایک تصویر کو غزہ کی پٹی سے نکال کر اس کا سیاق و سباق مسخ کیا اور اسے اسلام آباد میں ہونے والی تمام ہولناکیوں کا ثبوت بنا کر پیش کر دیا۔ یہاں تک کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو ایک مذمتی پریس ریلیز جاری کرنا پڑ گئی، جس میں حکومت سے کہا گیا کہ وہ ہلاکتوں پر توجہ دے۔ لیکن جب زمینی حقائق سے آگاہ رپورٹرز سے سوال کیا گیا، تو کوئی قابلِ اعتماد ثبوت نہیں ملا کہ لائیو بلٹس فائر کی گئیں یا ہلاکتوں کی مصدقہ تعداد کتنی تھی۔ یہی کہانی تب سامنے آتی ہے جب قریب ترین کلینک اور ہسپتالوں سے زخمیوں یا فوت شدگان کی فہرست مانگی جاتی ہے۔ تاہم سب سے بڑا تضاد پارٹی کے اعلی عہدیداروں کا خاموش ردعمل ہے، جنہوں نے تین ہفتے گذر جانے پر بھی مبینہ متاثرین کی ابتدائی فہرست تک پیش نہیں کی۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں