(گزشتہ سے پیوستہ)
اقبال ؒنے انسان کواس کی اصل پہچان دلائی۔انہوں نے کہاکہ انسان نہ تومحض مادی وجودہے اورنہ ہی محض ایک سیاسی اکائی،بلکہ وہ ایک اخلاقی وروحانی ہستی ہے جس کامقصد خیر کوفروغ دینااورشر کو روکناہے۔یہی تصورعالمی امن کی بنیادبن سکتاہے۔ اقبال ؒ کی فکر میں ایک نمایاں عنصر’’وحدتِ انسانیت‘‘ ہے۔ وہ قومیت کے تنگ دائروں سے بلندہوکرانسان کوایک عالمی برادری کارکن دیکھتے ہیں۔ان کے نزدیک رنگ،نسل،زبان اورجغرافیہ محض تعارف کے ذرائع ہیں،تفریق کے نہیں۔یہ وہی تصورہے جوآج کی دنیامیں سب سے زیادہ ضرورت کامتقاضی ہے۔
اقبالؒ کے نزدیک ایک مسلمان کی پہچان صرف عبادات تک محدودنہیں بلکہ وہ دنیامیں خیر،عدل اورامن کانمائندہ بھی ہے۔اقبالؒ فرماتے ہیں:قوموں کامستقبل ان کے عزم،کردار اورشعورسے وابستہ ہوتاہے۔
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہودیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
یہ شعرہمیں یہ سبق دیتاہے کہ اگرسیاست سے اخلاقیات اورروحانیت کوجداکردیاجائے تودنیامیں امن قائم نہیں رہ سکتا۔یہی وہ بنیادی اصول ہے جوآج کی عالمی سیاست میں شدید کمی کاشکارہے۔
آج کاعالمی منظرنامہ ہمیں یہ بتاتاہے کہ طاقت کاتوازن بگڑچکاہے۔بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے چھوٹی ریاستوں کومیدانِ کار زاربنا دیتی ہیں۔ایسے میں ایک ایسی آوازکی ضرورت ہے جونہ صرف غیرجانبدارہوبلکہ اصولی بھی ہواوریہی کردار پاکستان اداکر سکتاہے۔ پاکستان کاقیام بھی ایک نظریاتی تصورکے تحت عمل میں آیاتھا۔قائداعظم محمدعلی جناح ؒنے پاکستان کوایک ایسی ریاست کے طورپر دیکھاتھا جو دنیامیں امن،انصاف اوربین الاقوامی تعاون کا کردار اداکرے۔یہ محض ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ ایک فکری تجربہ ہے۔ قائداعظم ؒنے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، وہ ایک ایسی ریاست تھی جونہ صرف اپنے شہریوں کے لئے امن وانصاف کا گہوارہ ہوبلکہ عالمی سطح پربھی ایک مثبت کردارادا کرے۔
پاکستان جغرافیائی اعتبارسے ایک نہایت اہم خطے میں واقع ہے۔اس کے تعلقات مغرب،مشرقِ وسطیٰ ،وسطیٰ ایشیاء اورمسلم دنیاسے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی حیثیت اور محلِ وقوع پاکستان کوایک قدرتی سفارتی پل ثالث اورمصالحت کاربناتی ہے۔اگرہم موجودہ عالمی سیاست کا جائزہ لیں توہمیں کئی ایسے تنازعات نظرآتے ہیں جوعالمی امن کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ان میں بعض تنازعات محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی اثرات کے حامل ہیں۔ایسے میں پاکستان کاکردارمحض ایک تماشائی کانہیں بلکہ ایک فعال شریک کاہونا چاہیے۔ان تنازعات میں اس وقت سرفہرست امریکاوایران کے درمیان کشیدگی نے عالمی امن کو داؤپرلگادیا ہے۔یہ کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لئے بھی خطرہ ہے۔ایسے میں پاکستان،جوایک ایٹمی قوت،مسلم دنیاکااہم ملک اورایک ذمہ دارریاست ہے،ایک ثالثی اورمصالحتی کرداراداکرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔
اس تناظرمیں اسلام آبادمیں ہونے والی سفارتی کوششوں نے یہ پیغام دیاکہ جنگ کے ماحول میں بھی بات چیت کادروازہ بندنہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان نے خودکوایک ایسے ملک کے طورپرپیش کیاجومختلف فریقوں کے درمیان رابطے اورمکالمے کاذریعہ بن سکتا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان نے اقبالؒ کی تعلیمات کی روشنی میں ایک مثبت،متوازن اور مصالحتی کرداراداکرنے کابیڑہ اٹھایا۔
پاکستان نے شب روزکی محنت سے امریکا اور ایران کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی کوفروغ دیا،جہاں دونوں ممالک بغیرکسی دباؤکے اپنے تحفظات بیان کرسکیں اوربالآخردنیاایک عالمی تباہی کے کنارے سے واپس امن کی طرف لوٹ آئی لیکن اب ایک مرتبہ پھرمعاہدہ کو سبوتاژکرنے کے لئے دشمن قوتیں برسرپیکارہیں لیکن پاکستان اوردیگر عالمی قوتیں اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ منزل تک پہنچنے کے لئے مسلسل جدوجہد، بصیرت اور استقامت درکارہوتی ہے۔
اقبالؒ نے کبھی اندھی مخالفت یااندھی حمایت کادرس نہیں دیا۔ان کا پیغام تھا:
سبق پھرپڑھ صداقت کا،عدالت کا،شجاعت کا
لیاجائے گاتجھ سے کام دنیاکی امامت کا
یہ شعرآج پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لئے ایک رہنمااصول بن سکتاہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی اگراقبالؒ کے اصولوں پراستوارہوتووہ نہ صرف مؤثرہوسکتی ہے بلکہ باوقاربھی ۔
اقبالؒ نے ہمیں سکھایاکہ خودداری، عدل، اورصداقت وہ ستون ہیں جن پرایک مضبوط قوم کھڑی ہوتی ہے۔پاکستان کوچاہیے کہ وہ اپنی سفارت کاری کومحض مفادات کے تابع نہ رکھے بلکہ اصولوں کے تابع کرے۔اس کامطلب یہ نہیں کہ قومی مفادات کونظر انداز کیاجائے،بلکہ یہ کہ انہیں اخلاقی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کیاجائے۔ پاکستان کاکردارکسی فریق کاحمایتی بننا نہیں بلکہ امن کاداعی بنناہوناچاہیے۔پاکستان کو امریکا اورایران کے درمیان جنگ بندی اورتعلقات کوبہتر بنانے کے لئے اقبال کی فکرکے تین بنیادی اصول سامنے رکھنے کی ضرورت ہے:
اول مکالمہ :قرآنِ حکیم فرماتا ہے اور عہد کو پوراکرو،بے شک عہدکے بارے میں پوچھاجائے گا۔ (الاسراء:۳۴)
اقبالؒ کاتصورِامت اورانسانیت ہمیں یہ سکھاتاہے کہ اختلافات کوتصادم کی بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیاجائے۔ اقبال کی فکرمیں مکالمہ اورفکری آزادی کوبنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں۔پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ایسے سفارتی رابطوں کی حوصلہ افزائی کررہا ہے جہاں اعتماد سازی کے اقدامات کیے گئے،جس کے لئے پہلااصول وعدوں کی پاسداری ہے۔ دنیامیں امن صرف کاغذکے معاہدوں سے نہیں بلکہ وعدوں کی پاسداری سے قائم ہوتاہے۔ اگر کسی بھی فریق کی طرف سے اعتماد شکنی ہوتواس کا نقصان صرف دوممالک تک محدود نہیں رہتابلکہ پوراخطہ عدم استحکام کاشکارہوجاتاہے۔اوران معاہدوں تک پہنچنے کے لئے منصفانہ مکالمہ کی ضرورت ہے۔
(جاری ہے)